آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں قائم کیے جانے والے دفاعی مشن میں شامل ہوگا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے 40 ممالک کے اجلاس کے بعد کہا کہ آسٹریلیا اس مشن کے لیے E-7A ویجٹیل نگرانی طیارہ فراہم کرے گا، جو پہلے ہی خطے میں متحدہ عرب امارات کو ایرانی ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے تعینات ہے۔
انہوں نے بیان میں کہا کہ ’آسٹریلیا ایک آزاد اور خالص دفاعی نوعیت کے کثیرالملکی فوجی مشن کی حمایت کے لیے تیار ہے جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کریں گے۔
اس سے قبل برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قائم کیے جانے والے کثیرالملکی دفاعی مشن میں خودکار مائن ہنٹنگ آلات، جنگی طیارے اور جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے یہ اعلان 40 سے زائد ممالک کے وزرا دفاع کے ساتھ ورچوئل اجلاس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشن مناسب حالات میں فعال کیا جائے گا۔
جان ہیلی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر یہ کثیرالملکی مشن دفاعی، خودمختار اور مؤثر ہوگا‘۔
برطانیہ نے اس مشن کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ کی نئی فنڈنگ بھی مختص کی ہے جو مائن ہنٹنگ ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کی خریداری پر خرچ کی جائے گی۔
برطانیہ کی جانب سے جدید خودکار مائن ہنٹنگ سسٹمز بھیجے جائیں گے جو بحری بارودی سرنگوں کی شناخت اور انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی رائل نیوی کا ’Beehive‘ سسٹم بھی اس مشن کے لیے بھیجا جائے گا جو تیز رفتار خودکار ’Kraken‘ ڈرون کشتیوں کے ذریعے خطرات کی نگرانی اور ان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
برطانوی فوجی پیکچ میں ٹائفون جنگی طیارے بھی شامل ہوں گے جو آبنائے ہرمز پر فضائی گشت کے لیے تیار رہیں گے۔ اس کے علاوہ برطانوی فوج کے خصوصی مائن کلیئرنس ماہرین بھی اس مشن کا حصہ ہوں گے۔





تبصرے بند ہیں