ایرانی لائسنس منسوخی کے بعد تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ

Oil prices rise again following the revocation of the Iranian license.

امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت کا عمومی لائسنس منسوخ کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق منگل کے روز تیل کی قیمتیں تقریباً 3 فی صد اضافے کے ساتھ بند ہوئیں، جب کہ مارکیٹ بند ہونے کے بعد ان میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا جب مجموعی طور پر یہ اضافہ 5 فی صد تک پہنچ گیا۔

تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملے، امریکا کی جانب سے ایرانی خام تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا عمومی لائسنس منسوخ کرنا، اور بعد ازاں ایران پر نئے حملے کرنا تھا۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدے 2.17 ڈالر یا 3.01 فی صد اضافے کے ساتھ 74.16 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.89 ڈالر یا 2.76 فیصد بڑھ کر 70.44 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
مارکیٹ بند ہونے کے بعد عالمی معیار کا برینٹ خام تیل مزید 1.72 ڈالر اضافے کے ساتھ 75.88 ڈالر فی بیرل جب کہ ڈبلیو ٹی آئی 1.76 ڈالر بڑھ کر 72.20 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔ امریکی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 59 منٹ پر یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا عمومی لائسنس منسوخ کر دیا۔ دونوں معیار کی قیمتیں گزشتہ روز کے اختتامی نرخوں کے مقابلے میں 5 فی صد سے زیادہ بڑھ چکی تھیں۔

میزوہو کے انرجی فیوچر ڈائریکٹر باب یاوگر نے کہا کہ موجودہ ایرانی و امریکی حملوں اور لائسنس منسوخی کے اقدام سے تہران کی خام تیل برآمد کرنے کی صلاحیت یا دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاہدے کے امکانات پر طویل مدتی اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔

READ  امریکی فوج کا طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ

ایران کے وزیر خارجہ نے منگل کو کہا کہ اگر امریکا کی دھمکیاں جاری رہیں تو تہران اور واشنگٹن کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ کام تمام کر دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں