روزمرہ زندگی میں تھوڑا سا چلنے، تیز قدموں سے پیدل چلنے، دوڑنے یا سیڑھیاں چڑھنے کے دوران سانس پھولنا بڑی اور چھوٹی عمر کے افراد کی ایک عام شکایت بنتی جا رہی ہے۔
ماضی میں یہ مسئلہ زیادہ تر بڑی عمر کے افراد میں دیکھا جاتا تھا، تاہم اب نوجوان بھی اس کیفیت کا شکار نظر آتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر سانس بار بار پھولنے لگے تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید طرزِ زندگی میں جسمانی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آچکی ہے۔ اکثر لوگ کھانا کھانے کے فوراً بعد موبائل فون، کمپیوٹر یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، جس سے نہ صرف جسمانی فٹنس متاثر ہوتی ہے بلکہ مختلف طبی مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی کیفیت سانس پھولنے کی شکایت کو بڑھا سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اگر معمولی مشقت پر بھی سانس پھولنے لگے تو یہ دل، پھیپھڑوں، گردوں یا جگر سے متعلق بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ اگر سانس پھولنے کے ساتھ چہرے یا آنکھوں پر سوجن ہو تو جگر کے مسئلے کا امکان ہو سکتا ہے، جبکہ پیروں پر سوجن گردوں کی بیماری کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح اگر ہاتھوں، پیروں اور چہرے پر بیک وقت ورم آئے تو یہ دل کی بیماری کی ممکنہ علامت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں خود علاج کرنے کے بجائے مستند معالج سے فوری رجوع کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق خون کی کمی، کمزوری، دمہ، موسمی الرجی، نزلہ، کھانسی، بلغم، پھیپھڑوں کی بیماریاں اور طویل عرصے تک سگریٹ نوشی بھی سانس پھولنے کی عام وجوہات میں شامل ہیں۔ تاہم ہر مریض میں وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے علامات کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے طبی معائنہ ضروری ہے۔
بعض افراد میں سانس پھولنے کی وجہ معدے کی خرابی، گیس اور تیزابیت بھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کھانا کھانے کے بعد مسلسل بیٹھے رہنے اور جسمانی سرگرمی نہ ہونے سے معدے میں گیس اور تیزابیت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے سینے میں بھاری پن اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہو سکتی ہے۔ اس لیے متوازن غذا، مناسب ورزش اور کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی کو معمول بنانا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ہاضمے کا نسخہ
روایتی طریقہ علاج میں انجیر کے استعمال کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، بعض معالجین کے مطابق تین خشک انجیر رات بھر پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ کھانے سے ہاضمہ بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسی طرح تلسی کے پتے یا تخمِ ریحان کا قہوہ بھی روایتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تاہم ان نسخوں کی افادیت کے بارے میں مضبوط سائنسی شواہد محدود ہیں، اس لیے انہیں طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
یاد رکھیں!! اگر سانس پھولنے کی شکایت بار بار ہو، سینے میں درد، شدید کمزوری، چکر، نیلاہٹ یا سوجن جیسی علامات بھی موجود ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔






تبصرے بند ہیں