میر رضا قتل کیس میں کرپٹو کرنسی میں کروڑوں کا نقصان اور بھاری انویسٹمنٹ کا انکشاف سامنے آیا، تاہم انویسٹمنٹ کے حوالے سے متعلقہ افراد سےپوچھ گچھ جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے نوجوان تاجر میر رضا علی کی لاش ملنے کے ہائی پروفائل کیس میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ۔
تفتیشی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ میر رضا علی ڈیجیٹل (کرپٹو) کرنسی کے کاروبار سے وابستہ تھے، جہاں رواں سال اپریل میں انہیں مبینہ طور پر بہت بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ میر رضا نے ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار کے لیے بعض دیگر افراد سے بھی بھاری انویسٹمنٹ کرا رکھی تھی۔
تفتیشی حکام نے نقصان اور لین دین کے اسی تناظر میں رقم انویسٹ کرنے والے متعلقہ افراد کو شاملِ تفتیش کر لیا ہے اور ان سے سخت پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے مقتول میر رضا کا موبائل فون انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جسے ان لاک کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پولیس کو توقع ہے کہ موبائل فون کا ڈیٹا ڈی کوڈ ہونے سے قتل یا مبینہ خودکشی کی وجوہات کے حوالے سے انتہائی اہم شواہد اور سراغ مل سکیں گے۔
کیس کی بیلنسنگ شیٹ اور بیلسٹک رپورٹ کے حوالے سے پولیس نے بتایا کہ مقتول میر رضا کو لگنے والی گولی 30 بور کی ہے تاہم جائے وقوعہ سے گولی کا کوئی خول برآمد نہیں ہوا، جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والا 30 بور کا پستول بھی موقع سے غائب ہے۔
حکام نے کہا کہ پستول اور گولی کا خول نہ ملنے کے باعث تفتیش کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم تفتیشی ٹیمیں اس بات کا تعین کر رہی ہیں کہ آیا یہ اقدام کسی نے شواہد مٹانے کے لیے کیا یا معاملہ کچھ اور ہے۔






تبصرے بند ہیں