امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایران کو معاشی ’لائف لائن‘ فراہم کرنے والے ہر ملک کو مالی طور پر سزا دی جائے گی، انہوں نے تہران کے خلاف ’اقتصادی ڈی ڈے‘ کا اعلان بھی کیا ہے۔
یہ دھمکی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے امریکی معاشی طاقت استعمال کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔
یہ اقدام ان کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی عرصے میں ہونے والی کئی نقصان دہ تجارتی جنگوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے 2 اہم تجارتی شراکت داروں چین اور روس پر ٹرمپ کا دباؤ محدود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس پہلے ہی وسیع پیمانے پر امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور بڑی حد تک امریکا کی قیادت میں قائم عالمی معاشی نظام سے باہر کام کرتا ہے۔
دوسری جانب چین بارہا یہ ظاہر کر چکا ہے کہ اگر اس کے اپنے معاشی مفادات تقاضہ کریں تو وہ امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنے سے گریز نہیں کرتا۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر میں شعبۂ حکومت کے ایسوسی ایٹ پروفیسر پال مسگریو نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے لیے اپنی دباؤ کی مہم کو مؤثر انداز میں کامیاب بنانا انتہائی مشکل ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ یک طرفہ طور پر ایسی مربوط پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے لیے روایتی طور پر کثیر ملکی تعاون درکار ہوتا ہے اور اس کا مطلب چین، روس اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان کو ساتھ ملانا ہے۔
بہت بڑے معاشی نتائج
امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف میری مہم کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی تاریخ کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے ممالک کو بہت بڑے معاشی نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ٹرمپ نے تیل کی اسمگلنگ، کرنسی کے تبادلے کی سہولت، نقد رقوم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، بحری جہازوں کی رجسٹریوں اور فرنٹ کمپنیوں جیسے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ ابھی، اسی وقت بند ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے دیگر تجارتی شراکت داروں، بالخصوص اس کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار چین، پر بھی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
چین کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانا مشکل
چین اور ایران کے درمیان تجارت کو متاثر کرنے کا کوئی بھی امریکی منصوبہ نمایاں رکاوٹوں کا سامنا کرے گا۔
تجزیاتی ادارے کیلپر کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 ء میں ایران سے سمندری راستے سے برآمد کیے جانے والے تیل کا 80 فیصد چین نے خریدا، تاہم چین کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانا اکثر مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ان میں سے زیادہ تر آزادانہ طور پر کام کرتی ہیں اور امریکی مالیاتی نظام پر ان کا انحصار بہت کم ہے۔






تبصرے بند ہیں