یوکرین کا روسی تیل کی تنصیبات پر حملے دوبارہ کرنے کا اعلان، کریملن کا سخت ردِعمل

Ukraine announces renewed attacks on Russian oil facilities

روس نے یوکرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان امریکی امن کی کوششوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی صدر ولادومیر زیلنسکی نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملوں کی پابندی ختم ہو چکی، اب یوکرین دوبارہ حملے کرے گا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس بیان پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے توانائی تنصیبات پر حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی مذاکرات کاروں کی امن کوششوں کے خلاف ہیں، کیف اور زیلنسکی کی جانب سے امن کے لیے آمادگی نہ ہونے کے باعث مذاکراتی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔
روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے 7 مقامات پر حملے کیے ہیں، اس سے قبل روس کا مؤقف تھا کہ جنگ بندی کی حدود اور شرائط پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔

دوسری جانب زیلنسکی نے امریکی صحافی پیئرز مورگن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے مجھے دھوکا دیا ہے۔

زیلنسکی نے اس سے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا تھا کہ یوکرین نے توانائی سے متعلق جنگ بندی کی تجویز کے تحت روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے 2 دن کے لیے عارضی طور پر روک دیے تھے۔

READ  پاکستان اور جاپان کے درمیان سیلاب سے تحفظ کے منصوبے کیلئے گرانٹ معاہدے پر دستخط

انہوں نے روس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ روس نے کیف کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں