87

اسرائیلی وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی خفیہ ملاقات‘سعودی عرب نے تردید کردی

اسرائیلی وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی خفیہ ملاقات‘سعودی عرب نے تردید کردی
تل ابیب ”کنفیوژن“کو برقراررکھنا چاہے گا کیونکہ سیاسی لحاظ سے یہ اسرائیل اور امریکا کے فائدے میں ہے. ماہرین

ریاض : سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی ملاقات کی خبروں کی تردید کردی ہے. سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا کہ میڈیا میں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکام کے درمیان ملاقات کی خبریں زیر گردش ہیں انہوں نے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور محمد بن سلمان سے مائیک پومپیو کی ملاقات میں صرف امریکی اور سعودی حکام موجود تھے.
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا خفیہ طور پر سعودی عرب عالمی ذرائع ابلاغ میں زیربحث رہا جبکہ دنیا میں آج سب سے زیادہ سرچ کیا جانے والا سوال بھی اسی سے متعلق ہے اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے اس سلسلہ میں خبر بریک کی تھی کہ اتوار کے روزاسرائیلی وزیراعظم کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے نیوم میں ملاقات ہوئی ہے جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو بھی موجود تھے سعودی عرب کی اس سلسلہ میں تردیدسامنے آگئی ہے تاہم اسرائیل کی جانب اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے.
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ خبر اس لیے بھی دنیا بھر میں زیربحث ہے کیونکہ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق نیتن یاہو کے زیر استعمال رہنے والا ایک طیارہ اتوار کی شام سعودی عرب کے شہر نیوم گیا تھا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تاریخی دشمن ممالک کے راہنماﺅں کے درمیان پہلی ایسی ملاقات ہو گی امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوں.
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیل کے متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے معاہدوں میں کردار ادا کیا ہے سعودی عرب نے محتاط انداز میں اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا تاہم اس نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ نہیں ہوجاتا، تب تک وہ مذکورہ ممالک کی پیروی نہیں کرے گا. اس حوالے سے اگرچہ سعودی عرب کی جانب سے تردید آگئی ہے مگر اسرائیلی حکام نے اس طیارے کے ٹریکنگ ریکارڈ اور نیتن یاہو کے اس میں موجود ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا‘مشرق وسطحی کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید اسرائیل چاہتا ہے کہ ”کنفیوژن“کی یہ فضاءبرقراررہے کیونکہ سیاسی لحاظ سے یہ اسرائیل اور امریکا کے فائدے میں ہے لہذا ممکن ہے اسرائیل کی جانب سے اس کا سرکاری طور پر کوئی جواب نہ مل سکے.
خیال کیا جارہا ہے اسرائیلی حکومت براہ راست نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس خبر کو عام کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ اس خبر کو اتنی زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں اسرائیلی صحافی باراک راوید نے عبرانی زبان میں اپنے ٹوئٹرپیغام میں دعوی کیا کہ ”ذرائع“ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم خفیہ طور پر نیوم گئے جہاں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات کی انہوں نے لکھا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ یوسی کوہِن بھی ان کے ساتھ تھے.
باراک نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار تو کیا ہے تاہم اس خبر کی تردید بھی نہیں کی ہے انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا طیارہ اتوار روز شام 5 بجے اڑا بحیرہ احمر کے ساحل تک گیا اور 5 گھنٹے بعد اس نے واپس اسرائیل کے لیے ٹیک آف کیا. یاد رہے کہ رواں سال اگست میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا تھا کہ ان کے درمیان امن معاہدے اور سفارتی تعلقات کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے اس کے بعد امارات کے سرکاری حکم نامے کے تحت اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم کر دیا گیا جس کے بعد اماراتی باشندے اور کمپنیاں اسرائیلی باشندوں اور کمپنیوں کے ساتھ مالی لین دین، روابط اور معاہدے قائم کر سکیں گی.
اس کے بعد اکتوبر میں پہلے بحرین اور بعد میں سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان کر دیا یہ تینوں معاہدے امریکہ کی زیرِ سرپرستی طے پائے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دے رہے ہیںیہ اب تک واضح نہیں ہے کہ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ کی اس خارجہ پالیسی کو جاری رکھیں گے یا نہیں.
مذکورہ بالا ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد سعودی عرب کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی گئیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا، تاہم اب تک سعودی عرب نے اس حوالے سے پیش رفت نہیں کی ہے اس کے علاوہ رواں ماہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان پر کچھ ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباﺅہے تاہم بعد میں پاکستانی دفتر خارجہ نے اس کی تردید کر دی تھی.

اپنا تبصرہ بھیجیں