بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈیپ فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہیں ایک جعلی سرمایہ کاری اسکیم کی تشہیر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق، فیس بک پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کے باعث یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ لاکھوں افراد اس جھوٹی اسکیم کا شکار ہو کر اپنی رقوم سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب اس نوعیت کی ڈیپ فیک ویڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے مواد کو مسلسل پھیلایا جا رہا ہے، جن میں معروف سیاسی و کاروباری شخصیات کو شامل کر کے فراڈ پر مبنی اسکیموں کو سچ ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ تشویش ناک رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جعل ساز جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خود کو قابلِ اعتماد ظاہر کر کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی ایتھینین ٹیک کے مطابق، ان فراڈیوں نے اب ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور نفسیاتی حربوں کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری منظوری کی آڑ میں عوام کو گمراہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
تھریٹ انٹیلیجنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک پر ایک اسپئیر فشنگ مہم کے دوران نریندر مودی کی جعلی ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں انہیں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک تجارتی پلیٹ فارم کی حمایت کرتے دکھایا گیا۔ اس ویڈیو میں وزیر خزانہ نرملا سیتارامن اور معروف صنعت کار نارائنا مورتی کے بیانات کو بھی غلط انداز میں ایڈٹ کر کے پیش کیا گیا، تاکہ اس اسکیم کو مزید قابلِ اعتبار بنایا جا سکے۔
جعل ساز ان جعلی ویڈیوز کے ذریعے شہریوں کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرتے ہیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ روزانہ کی بنیاد پر منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس طرح کی ڈیپ فیک ویڈیوز پر مبنی سوشل میڈیا مہم نہ صرف مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے بلکہ متاثرین کی آن لائن سیکیورٹی اور ذاتی ڈیٹا بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ایک اشتہار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف 21 ہزار روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری پر 9 لاکھ روپے تک منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی ایتھینین ٹیک کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے بھارتی رہنماؤں کی جعلی (ڈیپ فیک) ویڈیوز تیار کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف عوام کو گمراہ کر رہی ہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں، کیونکہ اس سے حکومتی شخصیات پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض فراڈ مہمات باقاعدہ فیس بک کے "میٹا ایڈز” یعنی پیسے دے کر چلائے جانے والے اشتہارات کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ جب صارفین ان اشتہارات میں موجود لنکس پر کلک کرتے ہیں، تو انہیں جعل سازوں کی تیار کردہ جعلی ویب سائٹس پر بھیج دیا جاتا ہے۔
یہ جعلی ویب سائٹس صارفین سے ان کی بنیادی معلومات ایک فارم کے ذریعے حاصل کرتی ہیں، جس کے بعد متاثرہ افراد کو فراڈ کال سینٹرز سے فون کر کے مزید دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔






تبصرے بند ہیں