انجیکشن کے خوف اور سوئی چبھنے سے گھبرانے والے افراد کے لیے ویکسین دینے کا ایک نیا اور دلچسپ طریقہ پیش کیا گیا ہے، جس میں سوئی کا استعمال بالکل نہیں ہوتا۔
نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی میں نینو میڈیسن کے پروفیسر ہرویندر سنگھ گل کی سربراہی میں ہونے والی حالیہ تحقیق میں دانتوں کے فلاس کے ذریعے ویکسین جسم میں پہنچانے کا انوکھا تصور سامنے آیا۔
تحقیق میں چوہوں پر تجربات کیے گئے، جن میں ویکسین کو فلاس پر لگا کر آہستہ آہستہ دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان لگایا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ ویکسین ناک، گلے اور پھیپھڑوں تک مؤثر انداز میں پہنچی۔ پروفیسر گل کے مطابق، جسم کی نم حصے جیسے منہ اور ناک اہم داخلی راستے ہیں، جہاں سے انفلوئنزا اور کورونا جیسے وائرس داخل ہوتے ہیں۔
محققین نے اس طریقے کا موازنہ روایتی انجیکشن اور ویکسین کے قطروں سے کیا، جس میں فلاس کے ذریعے ویکسین پہنچانے کا یہ طریقہ زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔
تاہم، یہ تجربہ فی الحال صرف چوہوں پر کیا گیا ہے اور انسانوں پر اس کا ٹرائل ابھی باقی ہے۔






تبصرے بند ہیں