بھارتی فلم پروڈیوسر وویک اگنی ہوتری نے اداکار جان ابراہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف موٹر بائیکس، مسلز اور پروٹین پر توجہ دیں، کیونکہ فلم انڈسٹری میں پروٹین سے کامیابی نہیں ملتی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، وویک اگنی ہوتری نے جان ابراہم کے ایک حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جان نہ کوئی مؤرخ ہیں، نہ مفکر اور نہ ہی مصنف۔ وہ صرف ایکشن پر مبنی فلمیں، جیسے "ستیا میو جیاتے”جیسی، ہی بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں سیاسی اور سماجی تقسیم ہمیشہ سے رہی ہے، یہاں ہندو مسلم تنازعات اور ذات پات کے مسائل بھی موجود رہے ہیں۔ لیکن جان ابراہم کو چاہیئے کہ وہ صرف بائیکس چلائیں، اپنے مسلز دکھائیں اور پروٹین پر توجہ دیں۔
یاد رہے کہ جان ابراہم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ سیاسی نوعیت کی فلمیں کرنا نہیں چاہتے، کیونکہ ایسے موضوعات انہیں موجودہ سیاسی ماحول میں الجھن کا باعث لگتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرچہ انہوں نے "چھاوا” اور "کشمیر فائلز” نہیں دیکھی، مگر انہیں اندازہ ہے کہ یہ فلمیں لوگوں کو پسند آئی ہیں، لیکن وہ خود ایسی فلموں سے دور رہنا چاہتے ہیں۔






تبصرے بند ہیں