چند سال پہلے دبئی میں ویٹر کی نوکری کرنے والے وی جے ایسٹینڈر آج متحدہ عرب امارات میں اپنی فوڈ ٹریڈنگ کمپنی چلا رہے ہیں۔ یہ کاروبار نہ تو کسی سرمایہ کار کے سہارے کھڑا ہوا اور نہ ہی وراثتی دولت پر، بلکہ برسوں کی محنت، بچت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
وی جے ایسٹینڈر کے لیے ملازم سے کاروباری شخصیت بننے کا سفر ہرگز آسان نہیں رہا۔ اس راستے میں انہیں ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا، کئی مواقع سے محروم ہونا پڑا اور اپنے خواب کی تعبیر کے لیے بے شمار گھنٹے صرف کرنے پڑے، ایک ایسا خواب جو اکثر ناممکن محسوس ہوتا تھا۔
اگر انہوں نے اس سفر سے کوئی بات سیکھی ہے تو وہ یہ ہے کہ ہر ناکامی اپنے اندر ایک سبق چھپائے ہوتی ہے اور آگے بڑھنے والا ہر چھوٹا قدم بھی اہمیت رکھتا ہے۔
دبئی آنے سے بہت پہلے (یعنی 2018 سے قبل) وی جے ایسٹینڈر اپنے آبائی صوبے نیگروس آکسیڈینٹل (فلپائن) میں ہی کاروبار کی دنیا سے واقف ہو چکے تھے۔
ان کے خاندان کا تعلق مختلف کاروباروں سے رہا ہے جن میں ریستوران، مچھلی فارم اور پولٹری فارمز شامل ہیں۔ کاروباری ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے انہوں نے بہت کم عمری میں ہی کاروبار کے فوائد بھی دیکھے اور اس کے خطرات بھی۔
خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میرے خاندان نے مختلف کاروبار قائم کرنے کے لیے کس طرح مل جل کر سخت محنت کی۔ آج جب وہ ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو اپنے دادا دادی، چچا اور پھوپھیوں کے جذبے اور لگن کو دل سے سراہتے ہیں۔ انہوں نے سیکھا کہ جب ایک خاندان ایک ہی وژن کے تحت متحد ہو جائے تو محنت اور یکجہتی کتنی بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
تاہم، کاروبار نے انہیں بچپن ہی میں مایوسی کا ذائقہ بھی چکھایا۔ ایک واقعہ آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے۔ ان کے والدین نے بڑی امیدوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی فوڈ شاپ کھولی تھی، لیکن افتتاح کے صرف ایک ماہ بعد ہی وہ دکان مسمار کر دی گئی تھی۔
یہ ایک ایسا صدمہ تھا جس نے انہیں بہت جلد یہ حقیقت سکھا دی کہ کاروبار میں کامیابی کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا، لیکن ثابت قدمی ہی انسان کو دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔
دیگر اوور سیز فلیپینو ورکرز (او ایف ڈبلیوز) کی طرح وی جے بھی بہتر مستقبل کے لیے دبئی آگئے۔ ان کی پہلی نوکری بیرے کی تھی، لیکن انہوں نے جلد ہی احساس کر لیا کہ اگر وہ اپنا کچھ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں آمدنی کے اضافی ذرائع دیکھنے کی ضرورت ہے۔
لہٰذا نوکری کے بعد وہ دوستوں اور رشتہ داروں کو خشک مچھلی، کپڑے، ماسک اور پیک کھانا وغیر فروخت کیا کرتے تھے اور جو آمدنی ہوتی وہ سیونگ میں چلی جاتی۔






تبصرے بند ہیں