امریکا سے خراب ہوتے تعلقات پر مودی حکومت اندرونی دباؤ اور مشکلات سے دو چار

Modi government faces internal pressure and difficulties over deteriorating relations with the US

بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت سے متعلق پالیسیوں پر کھل کر تحفظات کا اظہار شروع کر دیا جبکہ امریکا کی پاکستان سے بڑھتی قربت بھی بھارت کے لیے تشویش کا باعث بن گئی۔

بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ امریکا دہشت گردی سے متعلق بھارتی خدشات کو مناسب طور پر نہیں سمجھ رہا۔

ایس جے شنکر نے امریکی تجارتی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے مگر زرعی شعبے سمیت کئی معاملات پیچیدہ ہیں۔
بھارتی وزیرِ خارجہ نے روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر ممکنہ 100 فیصد امریکی محصول کو بھی بھارت کے لیے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔

عرب میڈیا پر شائع کی گئی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کو امریکا کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور ٹرمپ کے پاکستان پر بڑھتے اعتماد پر سخت تشویش ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کو گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے پر بھی ٹرمپ کے کردار پر اعتراض ہے جبکہ نئی دہلی کشمیر کے معاملے میں بھی کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں کرنا چاہتا۔

رپورٹ میں شامل کی گئی تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق امریکا میں بھارتی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی سخت ہونے اور پاکستان سے امریکی قربت کے باعث بھارت میں امریکا اور مودی حکومت کے خلاف عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے، ساتھ ہی مودی حکومت کو آئندہ ریاستی انتخابات کے پیشِ نظر اندرونی سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

READ  صدر مملکت اور وزیراعظم کا کراچی میں گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر اظہار افسوس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں