اڈیالہ جیل میں قید وکیل جوڑے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا جیل ٹرائل مکمل ہونے کے بعد جج طاہر عباس سپرا نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 13،13 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔
مجرمان کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ کے تحت 10،10 سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 353 میں دو سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دفعہ 186 کے تحت ایک سال قید اور 50 ہزار جرمانے کا حکم سنایا گیا۔ دفعہ 382 کا فائدہ ملنے پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ مزید 3،3 سال قید کی سزا سے بچ گئے۔
سماعت مکمل ہونے پر وکیل صفائی ایمل مندوخیل نے فیصلہ مؤخر کرنے کی تحریری درخواست دائر کی۔ مؤقف اختیار کیا کہ یہ عدالت قانونی طور پر کیس کا فیصلہ نہیں سنا سکتی۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں درخواستیں زیر سماعت ہیں، کیس ٹرانسفر کی درخواست بھی ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنا دیا۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ انھوں نے 25 اکتوبر 2024 کو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹا کر کارِ سرکار میں مداخلت کی۔
یاد رہے کہ اس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف فرم جرم اڈیالہ جیل میں ان کی حراست کے دوران ہی عائد کی گئی تھی۔






تبصرے بند ہیں