مارگلہ کی پہاڑیوں میں سیاحوں کی تفریح جنگلی بندروں کے لیے نقصان دہ بننے لگی۔ کوئی چپس کھلاتا ہے، کوئی پلاؤ اور کوئی ان معصوم جنگلی جانوروں کو کولڈ ڈرنک پلانے کی کوشش کرتا ہے۔ چند لمحوں کے شوق میں جنگلی حیات کی صحت داؤ پر لگانے والے سیاحوں کو ماہرین نے خبردار کردیا۔
مارگلہ کی پہاڑیوں کا قدرتی حسن، دامنِ کوہ کے دلکش نظارے اور بندروں کی اچھل کود سیاحوں کے لیے تفریح کا ایک دلچسپ منظر ہوتا ہے، بندروں کی شرارتوں کا لطف لینے کے لیے کوئی سیاح چپس کا پیکٹ کھول کر بندروں کو بلاتا ہے تو کوئی انہیں پلاؤ پیش کرتا ہے۔ کچھ سیانے تو انہیں کولڈ ڈرنک پلانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
سیاحوں کے لیے یہ چند لمحوں کا شغل، مگر جنگل کے ان باسیوں کے لیے غیر فطری غذا صحت کے مسائل اور رویوں میں تبدیلی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق لوگ ان کو چپس یا پاپ کارن وغیرہ کھلا رہے ہوتے ہیں، اس سے ان کے رویے تبدیل ہوتے ہیں ہم لوگ اپنا ایکو سسٹم خراب کررہے ہیں، ان کو ایسا کھانا دینے سے ان کی صحت بھی خراب ہوتی ہے اور روئیے بھی بدلتے ہیں پھر یہ سیکٹرز میں گھروں میں گھس جاتے ہیں بچوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
وائلڈ لائف ماہرین کے مطابق چپس، پلاؤ اور کولڈ ڈرنکس جیسی انسانی خوراک جنگلی بندروں کی قدرتی غذا کا متبادل نہیں۔ ایسی چیزیں انہیں کھلانے سے ان کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔
ان جانوروں کیلئے قدرت نے جو غذا جنگل میں اگا رکھی ہے وہی بہترین ہے۔انہیں غیر نامیانی غذا سے بچائیں۔ آپ کی کچھ دیر کی نیکی ان کے گلے بھی پڑسکتی ہے۔






تبصرے بند ہیں