ایران جنگ اور امریکا میں تاریخ کی بدترین مہنگائی کو لے کر کیا ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پاورز بچاپائیں گے؟ امریکی کانگریس پر قبضہ کس کا ہوگا؟ اہم انتخابی معرکہ سج گیا۔
مشرقی ریاستوں ورمانٹ اور میئن کے کچھ علاقوں میں ووٹنگ شروع ہوگئی۔ نیویارک، نیوجرسی، کنیکٹی کٹ اور واشنگٹن ڈی سی میں کچھ دیر بعد پولنگ اسٹیشن کھلیں گے۔
ایران جنگ اور امریکا میں تاریخ کی بدترین مہنگائی کو لے کر کیا ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پاورز بچاپائیں گے؟ امریکا میں مڈٹرم الیکشن کیلئے ووٹنگ آج ہوگی۔
انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ رائے عامہ کے جائزوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کا مضبوط امکان ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے 218 نشستیں درکار ہیں، سینیٹ کی 35 نشستوں میں 33 باقاعدہ اور 2 خصوصی انتخابات شامل ہیں۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے ارکان 2 سال اور سینیٹرز 6 سال کیلئے منتخب کیے جاتے ہیں۔
سینیٹ میں اس وقت ری پبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے، ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت کیلئے 4 نشستوں کا اضافہ درکارہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی صدر ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کیلئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ری پبلکنز کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے، کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول الگ الگ جماعتوں کے پاس بھی جاسکتا ہے۔
قبل از وقت ووٹنگ میں 5 کروڑ 44 لاکھ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرچکے ہیں، وسط مدتی انتخابات میں معیشت، مہنگائی اور امیگریشن اہم انتخابی موضوعات ہیں۔ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد نئی کانگریس کا آغاز جنوری 2027 میں ہوگا۔
ڈیموکریٹس جیتے تو ٹرمپ کیلئے قانون سازی کا راستہ مشکل ہوسکتا ہے ۔ یہ انتخابات ٹرمپ کی صدارت کے باقی دو برسوں کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے ۔ نئی کانگریس جنوری 2027 میں ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کو کانگریس پر کنٹرول کی لڑائی سمجھا جاتا ہے، اس وقت کانگریس کے دونوں ایوان ریپبلکنز کے ہاتھ میں ہیں تاہم وسط مدتی انتخابات کے بعد صدر ٹرمپ کی پارٹی یہ کنٹرول کھو بھی سکتی ہے۔






تبصرے بند ہیں