جنوبی کوریا کے بڑے بینکس پر مصنوعی ذہانت سے سائبر حملے، ہنگامی تحقیقات شروع

AI-driven cyberattacks on major South Korean banks

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے ملک کے بڑے بینکس اور مالیاتی اداروں پر ہونے والے سائبر حملوں کی فوری اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

جنوبی کوریا کے حکام کا دعویٰ ہے کہ بعض حملوں میں مصنوعی ذہانت کے جدید نظام استعمال کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔

مالیاتی حکام کے مطابق شنہان بینک، کے بی کوک من بینک سمیت کئی بڑے بینک سائبر حملوں کا نشانہ بنے ہیں جبکہ ہانا بینک اور ووری بینک بھی متاثر ہوئے۔

حملوں میں دسیوں ہزار صارفین کا ذاتی ڈیٹا، قرض کی درخواستیں، رابطے کی معلومات اور مالی تفصیلات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مالیاتی نگران ادارے اور پولیس نے مشترکہ ہنگامی تحقیقات شروع کرتے ہوئے تمام مالیاتی اداروں کو سخت حفاظتی جانچ کی ہدایت کی ہے تاہم حکام نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے مصنوعی ذہانت کے ذرائع استعمال ہوئے اور ڈیٹا کے نقصان کی مکمل حد کیا ہے۔

صدر لی جے میونگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں سائبر سیکیورٹی کے طریقۂ کار کو جدید بنانے اور خودکار سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی دفاعی صلاحیتیں فوری طور پر تیار کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب حالیہ مہینوں میں آسٹریلیا اور کینیڈا میں بھی مصنوعی ذہانت سے منسلک سائبر حملوں کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم کینیڈا نے کہا ہے کہ اس کے نظام میں مداخلت کے شواہد نہیں ملے۔

READ  مذاکرات کے آخری مرحلے میں کے پی حکومت نے اپنے وعدوں سے انکار کردیا: وزیر داخلہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں