افغانستان، طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں میں تیزی

Armed operations against the Taliban government intensify

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ نے نورستان اور کنڑ میں طالبان رجیم کی متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

تازہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب طالبان نے افغانستان فریڈم فرنٹ کی پوزیشنوں پر قبضے کی کوشش کی۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق دونوں اضلاع میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

اس سے پہلے ایک ہفتے کے دوران کابل، سرِاۓ پل، قندھار، بدخشاں، کنڑ، نورستان، پروان اور پکتیا میں مسلح مزاحمتی گروپوں نے طالبان رجیم کی چوکیوں، گاڑیوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

ان کارروائیوں میں 17 طالبان اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ 24 ستمبر کو سرِاۓ پل کے صوبائی دارالحکومت میں افغانستان فریڈم فرنٹ نے طالبان اجتماع کو نشانہ بنایا گیا جس میں 3 طالبان ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

23 ستمبر کو کابل بگرام شاہراہ پر گشت کے دوران طالبان کی فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

افغان آرمی کے سابق جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی کارروائیوں کے دوران ستمبر میں اب تک 69 سے زائد طالبان اہل کارہلاک ہوچکے ہیں۔

READ  مری اسلام آباد ایکسپریس وے پر لینڈ سلائیڈنگ، بڑے پتھر گرنے سے آدھی سڑک متاثر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں