اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن کے اہم ترین منصوبے ایم ایل ون میں مالی معاونت کے ذریعے دوبارہ شمولیت کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مرحلہ وار قرضہ فراہم کیا جائے گا۔
قبل ازیں چین کی جانب سے ایم ایل ون منصوبے کی فنانسنگ اور تکمیل میں عدم دلچسپی کے باعث ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس منصوبے سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر مساتو کاندا نے گزشتہ روز وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ سے ملاقات کی۔
وفاقی وزیر نے ان کے دورے کو پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان دیرپا اور قابل اعتماد شراکت داری کی عکاسی قرار دیا جو کہ برسوں سے ملک کی ترقیاتی ترجیحات کی حمایت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
احد چیمہ نے کہا کہ گزشتہ سال سابق صدر اے ڈی بی کے دورے کے دوران 2 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز پر اتفاق ہوا تھا، انہوں نے درخواست کی کہ اب مثبت معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سالانہ قرض کی حد کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
میٹنگ کے دوران سیکرٹری ریلوے نے ایم ایل ون منصوبے کے حوالے سے ایک پریزنٹیشن دی، جس میں صدر اور ان کی ٹیم کو منصوبے کے دائرہ کار اور مالیاتی ضروریات سے آگاہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ اے ڈی بی ایم ایل ون منصوبے کے لیے مرحلہ وار تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پروسیسنگ کے وقت کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ نقل و حمل، تجارت اور علاقائی رابطوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔






تبصرے بند ہیں