یا والدین اپنے بچوں سے ’’دشمنی‘‘ کرسکتے ہیں؟ دانستہ تو شاید کبھی نہیں۔ لیکن آج کل کے والدین کا ایک طرز عمل ایسا ضرور ہے جو بچوں کے ساتھ سراسر ’’دشمنی‘‘ کرنے کے مترادف ہے۔
آج کے گھریلو ماحول میں بچوں کو خاموش رکھنے یا آسانی سے کھانا کھلانے کے لیے موبائل فون تھما دینا ایک عام سا حل سمجھا جانے لگا ہے۔ مگر ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ یہ وقتی سہولت درحقیقت ایک گہرا اور خاموش نقصان بن سکتی ہے۔
زندگی کے ابتدائی برس، جن میں بچے کا دماغ، زبان اور جذباتی نظام تیزی سے نشوونما پاتے ہیں، اگر اسکرین کے زیرِ اثر گزر جائیں تو اس کے اثرات برسوں تک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
بظاہر اسکرین بچے کو پرسکون کر دیتی ہے، وہ ضد نہیں کرتا، خاموشی سے نوالہ لیتا ہے اور والدین کو بھی سکھ کا سانس مل جاتا ہے، مگر اسی خاموشی کی قیمت بچے کی قدرتی سیکھنے کی صلاحیت چکا رہی ہوتی ہے۔
کھانے کے دوران موبائل دینے سے بچے کی توجہ خوراک، ذائقے اور جسمانی اشاروں سے ہٹ جاتی ہے، نتیجتاً وہ نہ تو بھوک کو پہچان پاتا ہے اور نہ ہی کھانے سے جڑا صحت مند رشتہ قائم ہو پاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسکرین سے جڑی عادت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کے نقصانات فوراً نمایاں نہیں ہوتے۔ آہستہ آہستہ بچے کی بولنے کی رفتار، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت، نیند کا معیار اور جذباتی توازن متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے، اور جب والدین کو تشویش لاحق ہوتی ہے تب تک یہ عادت مضبوط ہو چکی ہوتی ہے۔ کئی بچوں میں کم عمری میں نظر کے مسائل، وزن میں اضافہ یا بے چینی جیسی علامات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ماہرین اطفال کے مطابق ابتدائی دو برس بچے کی پوری زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اسی دوران دماغ میں وہ نیورل کنکشن بنتے ہیں جو سیکھنے، رویے اور جذباتی کنٹرول کو شکل دیتے ہیں۔ زیادہ اسکرین ٹائم زبان سیکھنے اور سماجی روابط قائم کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے، جبکہ بے ترتیب نیند اور کھانے کے معمولات ذہنی نشوونما میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ والدین اسکرین کا سہارا اکثر مجبوری میں لیتے ہیں۔ زیادہ تر گھروں میں بچوں کی ذمے داری کا بوجھ عورت پر ہوتا ہے، چاہے وہ ملازمت پیشہ ہی کیوں نہ ہو۔ مصروف معمولات، مدد کی کمی اور تنہا فیملی سسٹم میں اسکرین ایک فوری حل بن جاتی ہے، تاکہ والدین دیگر کام نمٹا سکیں یا ذہنی تھکن کم کر سکیں۔
کچھ گھریلو تجربات بھی اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔ عوامی رائے کے مطابق جب بزرگ گھر میں موجود ہوتے تھے تو بچے ان کے ساتھ چہل قدمی، عبادت گاہ جانا اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے، مگر بزرگوں کے نہ ہونے سے بچوں کو اکیلے سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے اور اسکرین آہستہ آہستہ روزمرہ کا حصہ بن گئی۔






تبصرے بند ہیں