معروف پاکستانی ماہر امراض قلب ڈاکٹر محمد فرقد عالمگیر، جو 2020 میں ڈبلن ایئرپورٹ پر شدید ہارٹ اٹیک کے بعد تقریباً 17 منٹ تک کارڈیک اریسٹ کا شکار رہے اور زندگی کی طرف واپس لوٹے،اب سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے کیلئے بنائے گئے میڈیکل بورڈ میں شامل ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر محمد فرقد عالمگیر اس وقت زیادہ تر لاہور میں مقیم ہیں اور پنجاب کے سرکاری اسپتالوں کے علاوہ نجی شعبے میں بھی طبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
فروری 2020 میں ڈبلن ایئرپورٹ پر ڈاکٹر فرقد عالمگیر کو اچانک شدید دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد وہ تقریباً 17 منٹ تک بے ہوش رہے اور ان کا دل بند رہا۔
ایئرپورٹ کے عملے اور ہنگامی طبی امدادی ٹیم نے فوری طور پر سی پی آر شروع کیا جبکہ ڈی فبریلیٹر کے ذریعے متعدد مرتبہ بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔
بعد ازاں ڈاکٹر فرقد عالمگیر کو میٹر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی ہارٹ بائی پاس سرجری کی گئی۔
ڈاکٹر فرقد عالمگیر نے صحت یاب ہونے کے بعد بتایا تھا کہ فوری طبی امداد اور ایئرپورٹ پر ہنگامی ردعمل نے ان کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
صحت یابی کے بعد وہ دوبارہ ڈبلن ایئرپورٹ گئے اور اپنی جان بچانے والے ہنگامی طبی امدادی اہلکاروں سے ملاقات بھی کی۔
اب یہی ماہر امراض قلب پاکستان میں طبی خدمات انجام دے رہے ہیں اور 10 اگست 2026 کو اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کا بھی حصہ تھے۔






تبصرے بند ہیں