اسرائیل غزہ میں منصوبہ بندی کے تحت بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے,غیر ملکی ڈاکٹرز

Israel is systematically targeting children in Gaza, foreign doctors say

غیر ملکی ڈاکٹرز نے عالمی میڈیا کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فورسز غزہ میں منظم انداز میں بچوں کو نشانہ بنا رہی ہیں

میڈیا رپورٹس کے مطابق 17 میں سے 15 غیر ملکی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر 15 سال سے کم عمر بچوں کو سر یا سینے پر گولیاں مار کر زخمی کیا۔

ان ڈاکٹرز نے اپنے رضاکارانہ مشنز کے دوران 114 ایسے بچوں کا علاج کیا جو اسرائیلی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان میں سے بیشتر بچے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے، تاہم چند کی زندگیاں بچا لی گئیں۔

امریکی ایمرجنسی ڈاکٹر میمی سید نے بتایا کہ یہ واقعات محض اتفاقی فائرنگ نہیں بلکہ واضح جنگی جرائم ہیں۔ انہوں نے 18 ایسے بچوں کی نشاندہی کی جنہیں براہِ راست سر یا سینے پر نشانہ بنایا گیا۔

کیلیفورنیا کے ٹراما سرجن فیروز سدھوا نے کہا کہ انہوں نے ایک ہی اسپتال میں ایسے کئی کیس دیکھے جن میں بچوں کو سر پر گولیاں ماری گئی تھیں۔ ان کے مطابق یہ واضح طور پر منظم نشانہ بازی ہے۔

فارنزک پیتھالوجسٹ نے بھی تصدیق کی کہ ایکس رے رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ زخم دور سے ماہر نشانہ باز یا ڈرون فائرنگ کے نتیجے میں لگے ہیں۔

سابق ڈچ فوجی کمانڈر مارٹ ڈی کروف نے سوال اٹھایا کہ بچوں کو سر اور سینے پر براہِ راست نشانہ بنانے کے باوجود ان واقعات کو حادثات کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔

READ  اسرائیل سے جنگ کے دوران مسقط پہنچائے گئے 7 مسافر طیارے واپس ایران منتقل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں