سب سے کم عمر سیاہ فام کیمبرج پروفیسر جیسن آرڈے کی اچانک موت واقع

Jason Arday, the youngest Black Cambridge professor, has died suddenly.

کیمبرج کے پروفیسر جیسن آرڈے، جن کے علمی ریکارڈ پر سوالات اٹھائے گئے تھے، مردہ پائے گئے ہیں، ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں ’’مسلسل اذیت‘‘ کا سامنا تھا۔

جیسن آرڈے کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرِ تعلیم تھے اور سرقہ کے الزامات کے بعد انھوں نے چند دن قبل ہی منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا، اب جمعہ کو وہ اچانک مردہ پائے گئے، ان کے اہل خانہ نے جیسن کو ایک ’’نرم مزاج انسان‘‘ قرار دیا ہے جنھیں مسلسل اذیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق 41 سالہ جیسن آرڈے کیمبرج یونیورسٹی کے اب تک کے سب سے کم عمر سیاہ فام پروفیسر تھے اور ایک معروف عوامی شخصیت بھی تھے۔ لیکن گزشتہ ماہ اُس وقت ان کی شہرت کو اچانک شدید دھچکا لگا، جب ان کی علمی کامیابیوں اور فلاحی کاموں کے بارے میں سخت سوالات اٹھائے جانے لگے۔

جیسن 37 برس کی عمر میں 2023 میں کیمبرج یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر تعینات ہوئے تھے، اور رواں ہفتے ہی ان کی آپ بیتی Great and Unfortunate Things شائع ہوئی ہے۔

آرڈے برطانوی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے سیکڑوں مضامین کا موضوع بن گئے، جن میں ان کی ساکھ پر شبہات ظاہر کیے گئے اور ان کے کردار کو بدنام کیا گیا۔

ان کی موت کی خبر نے بڑے پیمانے پر صدمے کی کیفیت پیدا کر دی۔ انhیں خراجِ عقیدت پیش کرنے والے بہت سے لوگوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ساتھ کیا جانے والا سلوک نہ صرف غیر مناسب تھا بلکہ ممکنہ طور پر کھلے نسل پرستانہ رویے کے مترادف تھا۔آرڈے کے ایک نمایاں حامی، سماجی کارکن پیٹرک ورنن نے ان کے خاندان کے لیے ’’جنازے، یادگاری تقریب اور متعلقہ خاندانی اخراجات میں مدد‘‘ کے مقصد سے ’گو فنڈ می‘ مہم شروع کی۔ ہفتے کی شام تک اس مہم میں 37,000 ڈالر سے زیادہ جمع ہو چکے تھے۔

READ  سینیٹ و قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس، اپوزیشن جماعتوں کا بائیکاٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں