نیند کی کمی نوجوانوں کو خوداذیتی پر ابھار سکتی ہے، تحقیق

Lack of sleep may encourage young people to self-harm

حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیند کی کمی نوجوانوں میں خوداذیتی (Self-harm) کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جن نوجوانوں کی نیند پوری نہیں ہوتی وہ زیادہ جذباتی عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں۔

نیند کی کمی دماغ کے ان حصوں کو متاثر کرتی ہے جو فیصلہ سازی، جذباتی کنٹرول اور خطرات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مسلسل نیند کی کمی سے نوجوان چڑچڑاپن، ڈپریشن اور مایوسی میں مبتلا ہوسکتے ہیں، جو آگے چل کر خوداذیتی یا خودکشی کے خیالات تک لے جاسکتی ہے۔

محققین نے خاص طور پر زور دیا ہے کہ اسمارٹ فون، ٹی وی یا گیمز کا دیر تک استعمال بچوں کی نیند کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ چھوٹے بچوں کو روزانہ 9 سے 12 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔

13-18 سال کو کم از کم 8 سے 10 گھنٹے نیند لازمی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ والدین کو چاہیے کہ سونے سے پہلے اسکرین ٹائم محدود کریں، نوجوان کے کمرے کا ماحول پرسکون رکھیں اور نیند کا باقاعدہ شیڈول بنائیں۔

READ  پیٹ کے بیکٹیریا بے خوابی کا سبب ہوسکتے ہیں: تحقیق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں