چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی اور رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے ملتان کے علاقے سیتل ماڑی میں 8 سالہ بچی ملائکہ کے اغواء، مبینہ زیادتی اور قتل کے دلخراش واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے سنگین اور انسانیت سوز جرم قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معصوم ملائکہ کو دو روز قبل جہانگیر آباد سے اغواء کیا گیا تھا، اور اس کی لاش ایک ہمسایہ خاتون کے گھر کے صوفے سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو جھنجھوڑنے کے مترادف ہے۔
حنا پرویز بٹ نے ملتان پولیس کی تیز اور مؤثر کارروائی کو سراہا، جس کے نتیجے میں صرف 48 گھنٹوں کے اندر مرکزی ملزم توقیر اور اس کی 19 سالہ ساتھی خاتون کو گرفتار کر لیا گیا، جنہوں نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔ قانونی کارروائی جاری ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ویمن پروٹیکشن اتھارٹی متاثرہ خاندان کو مکمل تعاون فراہم کرے گی، جس میں قانونی معاونت، نفسیاتی سپورٹ اور سیکیورٹی شامل ہے۔ اتھارٹی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت کے مطابق خواتین و بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ یہ کیس ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے گا تاکہ مجرموں کو قانون کی گرفت سے بچنے نہ دیا جائے اور معاشرے کو واضح پیغام دیا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے کہا: "ملائکہ کو انصاف دلانا صرف ایک مقدمے کا اختتام نہیں، بلکہ ہر بچی کے تحفظ کی جنگ ہے — یہ میرا وعدہ ہے اور پنجاب حکومت کا عزم بھی۔”





تبصرے بند ہیں