بھارتی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد شامی شاندار کارکردگی کے باوجود مسلم کھلاڑی ہونے کی وجہ سے اکثر بھارت میں تنقید اور نفرت کا سامنا کرتے ہیں اور کئی بار خود کو محب وطن ثابت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
گزشتہ رمضان المبارک میں ایک میچ کے دوران انرجی ڈرنک پینے پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں محمد شامی نے پہلی بار کھل کر وضاحت کی کہ انہوں نے میچ کے دوران روزہ کیوں چھوڑا اور انرجی ڈرنک کیوں پیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم 42 سے 45 ڈگری کی گرمی میں کھیل رہے ہوتے ہیں اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ہمارے مذہب میں بھی اس صورت میں رعایت موجود ہے، اگر آپ سفر میں ہوں، ملک کی نمائندگی کر رہے ہوں یا ایسی صورتحال ہو جہاں روزہ رکھنا ممکن نہ ہو تو اسلام روزہ چھوڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کھلاڑی کس مقصد کے لیے قربانی دے رہا ہے، اور بعد میں اس کی تلافی کی جا سکتی ہے، جیسا کہ میں نے کی۔
شامی نے انٹرویو میں یہ بھی بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو اب سنجیدگی سے نہیں لیتے، کیونکہ ان کے تمام اکاؤنٹس ان کی ٹیم کے کنٹرول میں ہیں۔ کچھ لوگ صرف شہرت کے لیے منفی تبصرے کرتے ہیں، اس لیے میں کبھی کمنٹس نہیں پڑھتا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق محمد شامی اس وقت تینوں فارمیٹس میں مستقل جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم انہیں ایشیا کپ 2025 کے لیے اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔






تبصرے بند ہیں