کراچی میں مرد و عورت کی لاشیں ملنے کے واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے جیو نیوز کے پروگرام "جیو پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 28 جولائی کو کلفٹن چائنا پورٹ کے قریب جھاڑیوں سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کے بعد تفتیش سے معلوم ہوا کہ مقتولین کی شناخت 30 سالہ ساجد مسیح ولد عارف مسیح اور 18 سالہ ثناء آصف دختر محمد آصف کے طور پر ہوئی ہے، جو گوجرانوالا کے علاقے نوشہرہ ورکاں کے رہائشی تھے۔
ڈی آئی جی کے مطابق، ساجد کے قریبی دوست احتشام کا واقعے میں ممکنہ کردار سامنے آیا ہے جو اس وقت مفرور ہے، اور پولیس کی تمام تر توجہ اس کی گرفتاری پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ احتشام اور ساجد کے خلاف 17 جولائی کو گوجرانوالا میں مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔
پولیس نے ایک اور مشتبہ شخص، وقاص کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مقتولین کے اہلِ خانہ کراچی پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔ اس کیس کا مقدمہ ابتدائی طور پر سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
اسد رضا نے کہا کہ یہ معاملہ صوبائی سطح پر پیچیدہ نہیں اور گوجرانوالا پولیس کے ساتھ مل کر تفتیش جاری ہے۔






تبصرے بند ہیں