دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں 850 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس رپورٹ اور سیکڑوں بلاک

Over 850 social media accounts reported and hundreds blocked in crackdown on terrorists

اسلام آباد:پاکستان میں دہشت گردوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا ہے، جس کے دوران 850 سے زائد اکاؤنٹس رپورٹ کیے گئے، جب کہ سیکڑوں کو بلاک کر دیا گیا۔

حکومت نے آن لائن دہشتگردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے مختلف بین الاقوامی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کالعدم تنظیموں کے درجنوں اکاؤنٹس کو رپورٹ اور معطل کرایا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتہا پسند پراپیگنڈے کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے اقوام متحدہ، امریکا اور برطانیہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں جیسے تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) سے وابستہ 850 سے زائد اکاؤنٹس کی نشاندہی کی۔

ان میں سے 533 اکاؤنٹس، جن کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی، پہلے ہی بلاک کیے جا چکے ہیں، جب کہ باقی پر کارروائی جاری ہے۔ حکومت کی اس کثیر جہتی حکمت عملی میں شامل اقدامات درج ذیل ہیں: فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، ایکس (ٹوئٹر)، ٹیلیگرام اور واٹس ایپ پر دہشت گردی سے جڑے اکاؤنٹس کی رپورٹنگ اور ڈیٹا تک رسائی کی درخواست، پی ٹی اے اور عالمی سوشل میڈیا اداروں کے نمائندوں کے درمیان براہِ راست ملاقاتیں، تاکہ تعاون تیز کیا جا سکے، وفاقی وزیر آئی ٹی شیزا فاطمہ خواجہ کی ٹیلیگرام حکام سے خصوصی آن لائن میٹنگ، جس میں بھرپور تعاون حاصل ہوا، باوجود اس کے کہ پاکستان میں ٹیلیگرام پر پابندی عائد ہے، 24 جولائی 2025 کو وزیر مملکت طلال چوہدری اور بیرسٹر عقیل کی میڈیا بریفنگ، جس میں عالمی اداروں سے AI پر مبنی خودکار مواد فلٹرنگ سسٹم اپنانے کی اپیل کی گئی

READ  ’موجودہ حکومت ختم کی جائے، قومی حکومت تشکیل دی جائے‘ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا مطالبہ

سرکاری رپورٹ کے مطابق فیس بک اور ٹک ٹاک نے 90 فیصد سے زائد حکومتی درخواستوں پر عملدرآمد کیا، جبکہ ٹیلیگرام نے اپنی سروس پر پابندی کے باوجود مکمل تعاون کیا۔ دوسری جانب ایکس (ٹوئٹر) اور واٹس ایپ کا ردعمل مایوس کن رہا، جن کی جانب سے صرف 30 فیصد درخواستیں قبول کی گئیں۔

حکام کے مطابق پاکستان کا روایتی میڈیا دہشت گرد پراپیگنڈے سے پاک ہے، مگر شدت پسند گروہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے تشدد کو ہوا دے رہے ہیں، نئی بھرتیاں کر رہے ہیں اور خوف پھیلا رہے ہیں۔

اسی تناظر میں حکومت نے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تین اہم مطالبات کیے ہیں: دہشت گردوں سے وابستہ تمام اکاؤنٹس مستقل بنیادوں پر بند کیے جائیں، AI ٹیکنالوجی کے ذریعے شدت پسند مواد کو فوری حذف کیا جائے، پاکستان کے ریگولیٹری اداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں سے براہِ راست اور مؤثر رابطہ قائم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں