پراسیسڈ غذا میں کمی ڈپریشن سے لڑنے میں مدد دے سکتی ہے: تحقیق میں انکشاف

Reducing processed foods may help fight depression

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انتہائی پراسیسڈ غذاؤں یا فاسٹ فوڈ کے استعمال میں نمایاں کمی ڈپریشن کی علامات میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی سان فرانسسکو کے محققین کی جانب سے کی گئی یہ ابتدائی تحقیق طبی جریدے جاما سائیکائٹری (JAMA Psychiatry) میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق میں شدید ڈپریشن کے شکار 20 بالغ افراد کو شامل کیا گیا تھا جو معمول کے مطابق بڑی مقدار میں انتہائی پراسیسڈ غذائیں (مرغن غذائیں، فاسٹ فوڈ) کھاتے تھے۔
شرکاء نے 4 ہفتے تک اپنی معمول کی خوراک کھائی جبکہ اگلے 4 ہفتوں کے دوران انتہائی پراسیسڈ غذاؤں میں کمی پر مبنی خوراک استعمال کی، اس مرحلے میں انتہائی پراسیسڈ غذاؤں کا استعمال 85 فیصد سے زیادہ کم کیا گیا۔

محققین کے مطابق انتہائی پراسیسڈ غذاؤں میں کمی کے دوران ڈپریشن کی علامات جانچنے کے 3 مختلف پیمانوں پر درمیانے سے نمایاں درجے تک بہتری دیکھی گئی جبکہ بے چینی کی علامات میں بھی کچھ کمی آئی۔

انتہائی پراسیسڈ غذاؤں میں پیک شدہ اسنیکس اور مٹھائیاں، میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ، ہوٹل میں تیار کیے گئے کھانے، بعض پیک شدہ بیکری مصنوعات اور پراسیس شدہ گوشت شامل تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ خوراک اور ڈپریشن کے درمیان ممکنہ تعلق آنتوں اور دماغ کے باہمی تعلق، جسم میں سوزش اور غذائی معیار سے ہو سکتا ہے تاہم انتہائی پراسیسڈ غذاؤں اور ڈپریشن کے درمیان براہِ راست وجہ ابھی ثابت نہیں ہوئی۔

تحقیق میں صرف 20 افراد شامل تھے اور مدت بھی مختصر تھی، اس لیے محققین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر بڑے پیمانے پر اور طویل مدتی مطالعات کی ضرورت ہے۔
تحقیق کا مقصد یہ ثابت کرنا بھی نہیں تھا کہ انتہائی پراسیسڈ غذائیں براہِ راست ڈپریشن کا سبب بنتی ہیں۔

READ  پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہا ہے: وزیراعظم

طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ڈپریشن ایک سنگین طبی بیماری ہے اور خوراک کو علاج، ادویات یا نفسیاتی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے، علاج میں تبدیلی ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کی جانی چاہیے۔

محققین کے مطابق تحقیق کے دوسرے مرحلے میں شرکاء کی شمولیت 2028ء میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں