جہاز کی لینڈنگ سے پہلے کھڑکیوں کے پردے کیوں ہٹائے جاتے ہیں؟

Why are window curtains removed before a plane lands?

اکثر مسافروں کو فضائی سفر کے دوران یہ بات عجیب لگتی ہے کہ لینڈنگ سے قبل فلائٹ اٹینڈنٹس کیوں بار بار جہاز کی کھڑکیوں کے شیڈز اوپر رکھنے کی درخواست کرتے ہیں۔

تیز روشنی بعض اوقات آنکھوں کو ناگوار بھی محسوس ہوتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ ہدایت سہولت کے لیے نہیں بلکہ مسافروں کی جان بچانے سے جڑی ایک اہم حفاظتی تدبیر ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمرشل پروازوں میں لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے عملہ مسافروں کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی نشستوں کے ساتھ موجود کھڑکیوں کے پردے کھول دیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات دکھائی دیتی ہے، مگر درحقیقت یہ اقدام دنیا بھر میں ایئرلائنز کے طے شدہ حفاظتی طریقۂ کار کا حصہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب جہاز اپنے خطرناک ترین مرحلے یعنی ٹیک آف یا لینڈنگ سے گزر رہا ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھڑکیوں کے شیڈز کھلے ہوں تو ہنگامی صورتحال کو فوراً بھانپنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اگر طیارے کے کسی حصے میں دھواں، آگ یا چنگاریاں نمودار ہوں تو نہ صرف کیبن عملہ بلکہ مسافر بھی یہ منظر دیکھ سکتے ہیں، جس سے قیمتی وقت ضائع کیے بغیر فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ جہاز سے نکلنے کے لیے کون سا راستہ زیادہ محفوظ ہے۔

اسی طرح روشن کیبن مسافروں کو ذہنی طور پر چوکنا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اندھیرے ماحول میں لوگ عموماً غنودگی یا بے توجہی کا شکار ہوجاتے ہیں، جبکہ لینڈنگ جیسے اہم مرحلے پر الرٹ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ کھڑکیوں کے پردے اوپر ہونے سے فلائٹ اٹینڈنٹس کے لیے بھی کیبن کا جائزہ لینا اور مسافروں کے ردعمل کو دیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔

READ  'والد کو واپس آنے دیا جائے'، امریکا سے ڈی پورٹ پاکستانی کی بیٹیوں کی دردمندانہ اپیل

آنکھوں کی تیاری بھی اس ہدایت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دن کی روشنی میں اگر اچانک انخلا کرنا پڑ جائے تو بند پردوں کی صورت میں آنکھوں کو تیز روشنی سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح رات کے وقت باہر کا منظر دکھائی دینے سے آنکھیں پہلے ہی ماحول کے مطابق ڈھل جاتی ہیں، جس سے ہنگامی حالات میں تیزی اور کم الجھن کے ساتھ باہر نکلنا ممکن ہو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں