پاکستان کی سینئر اداکارہ نازلی نصر کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ عام تاثر ہے کہ شوبز کی ہر دوسری خاتون طلاق یافتہ ہوتی ہے، حالانکہ آج کل طلاق کا مسئلہ ہر دوسرے گھر میں پایا جاتا ہے۔
حالیہ فیشن میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں نازلی نصر نے اپنی زندگی کے تجربات مداحوں سے شیئر کیے اور مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ پہلی شادی کی ناکامی اور دوسری شادی کے فیصلے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ چونکہ ہماری زندگی کیمرے کے سامنے ہوتی ہے، اس لیے ذاتی معاملات زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں، ورنہ طلاق کا مسئلہ صرف شوبز تک محدود نہیں۔ شوبز کی شخصیات اپنے ناخوشگوار تجربات مداحوں کے ساتھ اس لیے شیئر کرتی ہیں تاکہ دوسروں کو ان سے کچھ سیکھنے کو ملے، نہ کہ کسی کو بغاوت پر اکسانے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی عورت اپنا گھر یا بچوں کی زندگی برباد نہیں کرنا چاہتی۔
دوسری شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے نازلی نصر نے بتایا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، لیکن وہ کبھی خوف زدہ نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بچوں پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہتی تھیں اور نہ ہی انہیں یہ دباؤ دینا چاہتی تھیں کہ چونکہ ماں نے اپنی زندگی ان کے لیے وقف کر دی، اس لیے وہ بھی اپنا سارا وقت ماں کو دیں۔ اسی سوچ کے تحت بیٹے کو 18 سال اور بیٹی کو 15 سال کی عمر میں امریکا بھیج دیا تاکہ وہ اپنی زندگی خود بنا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں پر بوجھ نہ بننے کے لیے ہی انہوں نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا، جو انہوں نے سوچ سمجھ کر اور بچوں کی رضا مندی سے کیا۔ واضح رہے کہ نازلی نصر کی پہلی شادی اداکار حسن سومرو سے ہوئی تھی، جن سے ان کے دو بچے ہیں، تاہم یہ شادی طلاق پر ختم ہوئی اور بعد میں انہوں نے ہدایت کار محسن مرزا سے شادی کر لی۔





تبصرے بند ہیں