تحریر: امتیاز احمد شاد
بارش کا پہلا قطرہ جب زمین کو چھوتا ہے تو یا تو وہ تازگی لاتا ہے، یا گرد اُڑاتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں بھی کبھی کبھار ایسا لمحہ آ جاتا ہے جب کوئی حکومتی وزیر ایسا جملہ ادا کر دیتا ہے جو پوری اشرافیہ کے چہروں سے نقاب کھینچ دیتا ہے۔
وفاقی وزیر خواجہ آصف کا حالیہ بیان بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔
خواجہ آصف نے ایک تقریب میں صاف اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ
"بیوروکریسی کے بعض لوگ بیرونِ ملک، خصوصاً پرتگال جیسے ممالک میں جائیدادیں بنا چکے ہیں، اور دوہری شہریت کے مزے بھی لے رہے ہیں۔”
اس بیان پر نہ صرف ملک کے مقتدر حلقوں میں کھلبلی مچ گئی، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک بحث چھڑ گئی۔
تاہم، افسوس ناک امر یہ ہے کہ خواجہ آصف کے بیان کو سراہنے کے بجائے ان کے استعفے کا مطالبہ سامنے آ گیا۔
خواجہ آصف نے بعدازاں ٹویٹر (ایکس) پر کہا:
"جو چیز میں نے نشاندہی کی ہے، وہ ہر ادارے کے علم میں ہے۔
ہم ملک ریاض کے خلاف ایکشن لے سکتے ہیں تو بیوروکریسی میں چھپے پرتگالی جائیداد مالکان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔
ملک کے وسائل لوٹنے والے صرف کاروباری طبقہ نہیں، ریاستی نظام میں بیٹھے لوگ بھی جواب دہ ہوں۔”
یہ ٹویٹ دراصل اُس اندرونی نظام پر ایک واضح تنقید ہے جو احتساب کو صرف مخصوص طبقات تک محدود رکھتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ خواجہ آصف نے کیوں کہا؟
سوال یہ ہے کہ اب تک کیوں کوئی اور نہیں بولا؟
خواجہ آصف نے جو کہا، وہ ریاستی اداروں کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔
ایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے کے پاس ان افراد کی فہرستیں موجود ہیں جن کے بیرون ملک اثاثے اور دوہری شہریت ہے، مگر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔
کیا وزیر کا کام صرف فائلیں پڑھنا اور ربن کاٹنا ہے؟
کیا نشاندہی کرنا اب جرم بن چکا ہے؟
اگر خواجہ آصف بارش کا پہلا قطرہ ہیں، تو ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ یہ قطرہ سیلابِ احتساب میں بدلے — نہ کہ اُسے کچل دیا جائے۔
اس وقت ضرورت ہے کہ خواجہ آصف کے بیانیے کو سیاسی شہادت میں بدلنے کے بجائے، اسے ریاستی ایکشن پلان میں بدلا جائے۔
کیونکہ اگر احتساب سب کے لیے نہیں، تو پھر یہ کسی کے لیے بھی نہیں۔
ویلڈن خواجہ آصف۔
آپ نے بات تو وہی کی، جو ہر باشعور شہری برسوں سے سوچ رہا تھا — بس کوئی بولتا نہیں تھا۔






تبصرے بند ہیں