تحریر: آصف اقبال
پنجاب صدیوں تک اپنی زرخیز زمینوں، سرسبز کھیتوں، گھنے باغات اور بہتے دریاؤں کے باعث پہچانا جاتا رہا ہے، لیکن آج کا پنجاب تیزی سے اپنی اصل شناخت کھوتا جا رہا ہے۔ زرعی زمینیں بے تحاشہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں تبدیل ہو رہی ہیں، درخت کٹتے جا رہے ہیں اور دریا آلودگی کے بوجھ تلے کراہ رہے ہیں۔ یہ وہ غفلت ہے جس کی قیمت ہمیں ماحولیاتی تبدیلی اور سیلابی تباہ کاریوں کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔
بارشوں کا نظام بگڑ چکا ہے، شہروں میں نکاسی آب کا ڈھانچہ عملاً ناکام ہے، اور جنگلات کے خاتمے نے زمین کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ہماری خوراک بھی فطرت سے دور ہو چکی ہے۔ خالص اجناس اور دیسی خوراک کی جگہ فاسٹ فوڈ اور کیمیکل زدہ اجناس نے لے لی ہے۔ شہری طرزِ زندگی نے نئی نسل کو فطرت کے حسن سے بیگانہ کر دیا ہے۔ یہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ تہذیبی اور روحانی بحران بھی ہے۔ اگر ہم نے فطرت سے رشتہ دوبارہ نہ جوڑا تو آنے والی نسلوں کے لیے پنجاب محض کتابوں میں لکھی کہانی رہ جائے گا۔
اور سیلاب کے بعد کے خدشات اور مہنگائی کا طوفان کی بات کروں
سیلاب صرف پانی کے ریلے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے پیچھے ایسے مسائل چھوڑ جاتا ہے جو برسوں تک عوام کو متاثر کرتے ہیں۔ مکانات کی بربادی، کھیتوں کی تباہی اور مویشیوں کی ہلاکت کے بعد اصل مشکلات شروع ہوتی ہیں۔ آلودہ پانی سے ہیضہ، ملیریا، ڈینگی اور ٹائیفائیڈ جیسی وبائیں پھوٹ پڑتی ہیں جبکہ پینے کے صاف پانی کی قلت سنگین بحران بن جاتی ہے۔
اور زراعت کو پہنچنے والا نقصان خوراک کے بحران کو جنم دیتا ہے۔ سبزیاں، آٹا، چاول اور دالیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ مویشیوں کی کمی کے باعث دودھ اور گوشت کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ سڑکوں اور پلوں کی تباہی ٹرانسپورٹ کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں ہر شے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ عام ادمی جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اس کے لیے مزید مشکلات اس کے در پر ہوتی ہیں اور تعمیرات کی بڑھتی ضرورت سیمنٹ، سریے اور لکڑی کو بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیتی ہے۔

یوں لگتا ہے کہ پانی کے اترنے کے بعد عوام ایک اور طوفان کا سامنا کرتے ہیں مہنگائی کے طوفان کا، جو سب سے زیادہ غریب طبقے کو متاثر کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اس تباہی سے بچاؤ اور بعد ازاں بحالی کے لیے کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی کی ہے یا ہمیشہ صرف وقتی اقدامات پر اکتفا کرتے رہے ہیں؟






تبصرے بند ہیں