عوام کی آواز دبائی گئی تو جمہوریت اور ملک کو سنگین خطرہ لاحق ہوگا، بیرسٹر گوہر

Did Imran Khan ask Ali Amin Gandapur to resign? Barrister Gohar told

"پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر عوام کی آواز کو نظرانداز کیا گیا تو یہ ملک اور جمہوریت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنے گا۔”

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے ان کی نااہلی کے نوٹیفکیشن پر مزید کارروائی روک دی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ناانصافیوں کا سلسلہ بند ہو۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے، انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا، الیکشن کمیشن نے نہ ہمیں سنا، نہ نوٹس دیا، اور راتوں رات نااہل قرار دے دیا گیا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے تنہا 3 کروڑ ووٹ حاصل کیے، جتنے باقی تمام جماعتوں نے مل کر لیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی بحرانوں کا حل صرف مذاکرات میں ہے، اور ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، لیکن مذاکرات کرنے والے بانی چیئرمین سے ملاقات تک نہ کروا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سزاؤں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اگر عوامی مینڈیٹ کی عزت نہ کی گئی تو ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہو گا۔ اب بھی وقت ہے کہ تمام سزائیں ختم کی جائیں۔ ہم 180 نشستیں جیت چکے تھے، لیکن آج صرف 76 نشستوں پر موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اپیل ہے کہ سب ہوش سے کام لیں، جو کچھ ہو رہا ہے وہ ملک کے مفاد میں نہیں۔ ہمیں آئین کے مطابق برتاؤ دیا جائے اور ناانصافیاں ختم ہوں۔ ہم سے انتخابی نشان بھی چھین لیا گیا، جبکہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا جو دیگر جماعتوں سے مختلف ہو۔

READ  ایران، عراق اپنے مستقبل کا فیصلہ بیرونی طاقتوں کو نہیں کرنے دیں گے: باقر قالیباف

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم جشنِ آزادی منائیں گے اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اپنی آواز بھی بلند کریں گے۔

انہوں نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق امن و امان قائم رکھنا وفاق کی ذمہ داری ہے، لیکن فوجی آپریشن سے عام لوگ متاثر ہو کر بے گھر ہو جاتے ہیں۔ ان کے بقول، سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں