خوراک کا انتخاب پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کو کئی طریقوں سے متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ کچھ غذائیں جسم میں سوزش، آکسیڈیٹو اسٹریس اور مدافعتی نظام کی کارکردگی کو بہتر یا بدتر بنا سکتی ہیں۔
1. خطرہ کم کرنے والی غذائیں:اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور پھل اور سبزیاں جیسے گاجر، ٹماٹر، بروکلی، پالک اور شملہ مرچ میں موجود وٹامن C، وٹامن E اور بیٹا کیروٹین خلیوں کو ڈی این اے نقصان سے بچاتے ہیں ،اومیگا-3 فیٹی ایسڈز (مچھلی، اخروٹ، فلیکس سیڈز) سوزش کو کم کر کے کینسر کی افزائش کو روکنے میں مدد دیتے ہیں ،فائبر سے بھرپور غذائیں (دالیں، گندم، اوٹس) آنتوں کے مائیکرو بایوم کو بہتر بنا کر مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہیں۔
اسی طرح گرین ٹی میں موجود catechins بھی کینسر مخالف خصوصیات رکھتے ہیں۔
2. خطرہ بڑھانے والی غذائیں:
پروسیسڈ اور سرخ گوشت (ساسیج، بیکن، برگر، گائے یا بکرے کا گوشت) میں موجود نائٹریٹس اور ہائی ٹمپریچر پر پکنے سے پیدا ہونے والے کیمیکلز پھیپھڑوں کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
زیادہ شکر اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس (سافٹ ڈرنکس، سفید ڈبل روٹی، کیک) انسولین کی سطح بڑھا کر کینسر خلیات کی نشوونما کو تیز کر سکتے ہیں۔
زیادہ نمکین یا منجمد غذاؤں میں موجود سوڈیم اور کیمیائی preservatives سوزش میں اضافہ کرتے ہیں، جبکہ ٹرانس فیٹس (فرائیڈ اسنیکس، فاسٹ فوڈ) مدافعتی نظام کو کمزور کر کے سوزش کو بڑھا سکتے ہیں۔






تبصرے بند ہیں