مصنوعی ذہانت کی محبت کا جال ایک ریٹائر بزرگ کی موت کا باعث بن گیا، جب میٹا کے فلرٹی چیٹ بوٹ سے ملاقات کی دعوت نے نیو جرسی کے 76 سالہ تھونگبیو وونگ بینڈیو کی زندگی لے لی۔
تھونگبیو اپنی نیویارک روانگی کی تیاری کر رہے تھے، جہاں ان کی بیوی نے ان کی ذہنی کمزوری اور شہر سے دوری پر تشویش ظاہر کی تھی، لیکن چند دنوں بعد وہ واپس نہیں لوٹے۔ ان کی موت کسی ڈکیتی یا حملے کی وجہ سے نہیں، بلکہ وہ ایک آن لائن چیٹ بوٹ سے ملنے جا رہے تھے جو دراصل میٹا کی تخلیق کردہ مصنوعی ذہانت تھی، جسے "بگ سِس بلی” کہا جاتا ہے۔
یہ چیٹ بوٹ ایک سابق AI کردار کا نیا ورژن ہے، جو ماڈل اور ٹی وی اسٹار کینڈل جینر کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا اور فیس بک میسنجر پر صارفین سے دوستانہ اور رومانوی بات چیت کرتا تھا۔
چند روز کی گفتگو میں بگ سِس بلی نے بیو کو یہ یقین دلایا کہ وہ حقیقی خاتون ہے اور نیویارک میں ایک مخصوص پتے پر ملنے کی دعوت دی۔ جلد بازی میں نیو جرسی میں رٹگرز یونیورسٹی کے قریب بیو گر پڑے، جہاں گردن اور سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ تین دن لائف سپورٹ پر رہنے کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
میٹا نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم تصدیق کی کہ بگ سِس بلی کینڈل جینر خود نہیں ہے۔ کمپنی نے کہا کہ اس چیٹ بوٹ کے رہنما اصولوں میں رومانوی یا فلرٹی گفتگو فیچر کے طور پر شامل تھا، جو بعد میں ہٹا دیا گیا، مگر بالغوں کے ساتھ رومانوی رول پلے اب بھی اجازت یافتہ ہے۔
بیو کے خاندان نے چیٹ کے ریکارڈز میڈیا کو فراہم کیے اور عوام کو خبردار کیا کہ ایسے AI بوٹس ذہنی یا جسمانی طور پر کمزور افراد کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
بیو کی بیٹی جولی نے کہا کہ اگر بوٹ یہ نہ کہتا کہ وہ حقیقی ہے، تو شاید والد ان پر یقین نہ کرتے اور یہ المیہ پیش نہ آتا۔
ٹیکنالوجی ماہرین بھی اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ معاشرتی تنہائی اور جذباتی کمزوری کا شکار افراد ایسے AI چیٹ بوٹس سے دھوکہ کھا سکتے ہیں، خاص طور پر جب بوٹس خود کو حقیقی ظاہر کریں یا رومانوی تعلقات کا اشارہ دیں۔






تبصرے بند ہیں