سوشل میڈیا انفلوئنسر کی لائیو اسٹریمنگ میں پُراسرار ہلاکت

Social media influencer dies mysteriously during live streaming

فرانس کے مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر اور سابق فوجی رافیل گریون ایک لرزہ خیز واقعے میں زندگی کی بازی ہار گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی تحقیقاتی ادارے اس افسوسناک سانحے کی چھان بین کر رہے ہیں، جس میں گریون کی موت ایک ایسے لائیو اسٹریمنگ شو کے دوران ہوئی جو مسلسل 10 روز تک جاری رہا۔

بتایا گیا ہے کہ اس لائیو اسٹریمنگ میں انہیں ناصرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ نیند سے محروم رکھ کر ناقابلِ برداشت اذیت بھی دی گئی، یہ واقعہ فرانس کے علاقے کونت میں گریون کی رہائش گاہ پر پیش آیا۔

آن لائن دنیا میں وہ جین پورمانوو یا جے پی کے نام سے مشہور تھے اور ان کے ایک ملین سے زیادہ مداح تھے، خطرناک اور انتہاپسندانہ چیلنجز کے باعث وہ انٹرنیٹ پر خاص شہرت رکھتے تھے۔

گریون کی پہچان ایسے ہی لائیو سیشنز تھے جس میں اکثر انہیں تضحیک اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا، وہ فالوورز کے سامنے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک لائیو آتا رہا، جہاں اسے انتہائی خطرناک اور مشکل چیلنجز کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور اسے پورا کرنے کے لیے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق پلیٹ فارم کِک پر ان کی نشریات اس وقت اچانک بند ہوگئیں جب ناظرین نے محسوس کیا کہ وہ حرکت نہیں کر رہے۔رپورٹس کے مطابق رافیل گریون نے 10 دن اور راتوں تک مسلسل جسمانی تشدد برداشت کیا، جس میں شدید جسمانی تشدد اور نیند سے محروم رکھنا شامل تھا۔

لائیو ویڈیو میں دیکھا گیا کہ وہ ایک گدے پر لیٹا ہے اور اس پر اس کا جسم بے حس و بے جان پڑا ہے ایسے میں کسی نے اس پر پانی کی بوتل پھینکی مگر وہ پھر بھی نہ ہلا، یہ سب مبینہ طور پر دو دوسرے انفلوئنسرز کی جانب سے کیا جا رہا تھا، جنہوں نے انہیں بار بار مارا۔

READ  وزیراعظم کی جانب سے آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان متوقع

فرانسیسی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، وزیر کلارا شاپاز نے اسے انتہائی خوفناک واقعہ قرار دیا جبکہ بچوں کے امور کی ہائی کمشنر سارہ ایل ہیری نے کہا کہ یہ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے اور آن لائن پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا کہ وہ پُرتشدد مواد پر قابو پائیں تاکہ خاص طور پر بچوں کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں