امریکا میں انسانی گوشت کھانے والے پیراسائٹ ’اسکریو وُورم‘ کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق متاثرہ مریض میری لینڈ سے تعلق رکھتا ہے اور حال ہی میں گوئٹے مالا کا سفر کر کے واپس آیا تھا، جہاں یہ بیماری جنوبی میکسیکو میں پھیل رہی ہے۔
امریکی محکمۂ صحت و انسانی خدمات (HHS) نے تصدیق کی کہ امریکا میں ’نیو ورلڈ اسکریو وورم‘ کے پہلے انسانی کیس کی نشاندہی ہوئی ہے، جس کی امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) نے 4 اگست کو تصدیق کی تھی۔
امریکا کے محکمۂ صحت کے ترجمان اینڈریو جی نکسن کے مطابق میری لینڈ ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اور CDC نے کیس کی مشترکہ تحقیقات کی ہیں اور امریکا میں مرض کے پھیلنے کا خطرہ انتہائی کم ہے۔
اسکریو وورم ایک پیراسائٹک مکھی ہے جو عام طور پر ممالیہ جانداروں، خصوصاً مویشیوں اور جنگلی حیات کو متاثر کرتی ہے اور شاذ و نادر ہی انسانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ مادہ مکھی کھلے زخموں میں انڈے دیتی ہے، جن سے نکلنے والے لاروا جاندار کے زندہ گوشت کو کھانے لگتے ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ انفیکشن جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔





تبصرے بند ہیں