دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جہاں بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے۔
جسڑ پر ایک لاکھ 28 ہزار کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ بلوکی پر بھی اونچے درجے کے سیلاب کے ساتھ پانی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے۔
دریائے چناب میں قادرآباد کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے تاہم یہاں پانی کا بہاؤ گھٹ کر 9 لاکھ 1 ہزار 500 کیوسک ہو گیا ہے۔ اسی طرح خانکی پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے لیکن پانی میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں بہاؤ 7 لاکھ 22 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائے ستلج کی صورتحال ،ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی آمد 1 لاکھ 9 ہزار 305 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ بہاولنگر کے دریا کے کنارے واقع دیہات اور بستیاں زیر آب آ چکی ہیں اور ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ تیز بہاؤ کے باعث کئی عارضی حفاظتی بند اور رابطہ سڑکیں ٹوٹ گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 2 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے 18 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں۔
کوٹ مومن میں صورتحال ،دریائے چناب میں کوٹ مومن کے علاقے میں 6 لاکھ کیوسک کا ریلا داخل ہو گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے مطابق تقریباً 2500 افراد اور 1700 سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریلا گزرنے کے بعد نقصانات کا تخمینہ لگانے اور بحالی کے اقدامات شروع کیے جائیں گے۔






تبصرے بند ہیں