چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کا دباؤ بدستور برقرار ہے، اور امکان ہے کہ 4 سے 5 ستمبر کے دوران گڈو اور سکھر بیراج کی طرف ایک بڑا سیلابی ریلا پہنچے، جس کی مقدار 7 سے 11 لاکھ کیوسک تک ہو سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ممکنہ سپر فلڈ کے پیش نظر ہنگامی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ چاہے 9 لاکھ کیوسک کا ریلا ہو یا 10 لاکھ کا، کچے کے علاقے زیرِ آب آ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج سے مسلسل رابطے میں ہیں اور گڈو و سکھر بیراج کو ہر صورت بچانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں اور مویشیوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اس کے بعد بیراجوں کی حفاظت اور بچاؤ بندوں کو مضبوط بنانا ترجیحات میں شامل ہیں۔
مراد علی شاہ کے مطابق سندھ حکومت نے 5 سے 9 لاکھ کیوسک کے ممکنہ ریلا کے پیش نظر جامع حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔ گڈو بیراج پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کا بہاؤ آج رات کسی بھی وقت اپنے عروج پر پہنچ سکتا ہے، اور اس وقت تمام سیلابی ریلے پنجند پر جمع ہو رہے ہیں، جہاں سے وہ سندھ میں داخل ہوں گے۔
متوقع سیلاب سے 2 لاکھ سے زائد گھرانے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے 948 ریلیف کیمپس قائم کیے جا رہے ہیں۔ سندھ انتظامیہ نے کچے کے تمام علاقوں کو خالی کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جبکہ حساس بندوں، خاص طور پر قادر پور اور شینک پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو کے لیے 192 کشتیاں دستیاب ہیں، جن میں نجی اور نیوی کی ریسکیو بوٹس بھی شامل ہیں۔ پاکستان نیوی اور فوج دونوں امدادی کاموں میں شریک ہیں۔ رائٹ اور لیفٹ بینک پر عملہ چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہا ہے۔
ادھر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ممکنہ سپر فلڈ سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں اور یہ چیلنج صرف حکومت کا نہیں، ہم سب کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور فوج انخلاء اور ریلیف میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
سندھ حکومت کے ترجمان مصطفیٰ عبداللہ بلوچ کے مطابق سیلاب 4 یا 5 ستمبر تک سندھ میں داخل ہو جائے گا، جبکہ صوبائی سیکرٹریٹ میں قائم فلڈ ایمرجنسی سیل سے 24 گھنٹے دریاؤں کی صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی بریفنگ کے مطابق ممکنہ سپر فلڈ سے سندھ کے 15 اضلاع، 167 یوسیز اور 1651 دیہات متاثر ہو سکتے ہیں، جن کی مجموعی آبادی 16 لاکھ سے زائد ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ بارشوں اور اچانک سیلابی صورتِ حال کے باعث ملک بھر میں اب تک 850 افراد جاں بحق اور 1,150 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 6 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ مون سون کا آخری اسپیل ستمبر کے پہلے 10 دنوں میں متوقع ہے، جس کے دوران مشرقی پنجاب، آزاد کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔





تبصرے بند ہیں