طب کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) نے نئے انقلابی امکانات پیدا کر دیے ہیں۔ برطانیہ کے ماہرین نے ایک جدید اسٹیتھوسکوپ تیار کیا ہے جو چند سیکنڈز میں دل کی مختلف بیماریوں کی تشخیص کر سکتا ہے۔
روایتی اسٹیتھوسکوپ 1816ء میں ایجاد ہوا تھا، لیکن اب یہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر 200 سے زائد جنرل پریکٹیشنرز کے کلینکس میں آزمائشی طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
یہ نیا آلہ دل کی تین بڑی بیماریوں ہارٹ فیلئر، والو ڈیزیز اور غیر معمولی دل کی دھڑکن کی فوری شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسٹیتھوسکوپ میں روایتی چیسٹ پیس کے بجائے ایک کارڈ کے برابر آلہ نصب ہے جو دل کی دھڑکن اور خون کے بہاؤ میں باریک تبدیلیوں کو ریکارڈ کرتا ہے، جو انسانی کان سے نہیں سنی جا سکتیں۔
یہ آلہ دل کی حرکت (ECG) بھی نوٹ کرتا ہے اور ڈیٹا کلاؤڈ پر بھیج دیتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اس کا تجزیہ کرتی ہے۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن (BHF) کی کلینیکل ڈائریکٹر اور ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر سونیا بابو نارائن کے مطابق، 200 سال پرانے اسٹیتھوسکوپ کو اکیسویں صدی کے لیے اپ گریڈ کرنا شاندار مثال ہے، کیونکہ بروقت تشخیص مریضوں کو طویل اور بہتر زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔
یہ جدید اسٹیتھوسکوپس چند ماہ میں جنوبی لندن، سسیکس اور ویلز کے کلینکس میں فراہم کیے جائیں گے۔






تبصرے بند ہیں