دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید طغیانی اور طوفانی بارشوں نے پنجاب کے متعدد شہروں میں تباہی پھیلا دی ہے
بھارت نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ مزید سیلابی ریلے آئیں گے۔ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید طغیانی اور طوفانی بارشوں نے پنجاب کے متعدد شہروں میں تباہی پھیلا دی ہے۔ سیکڑوں دیہات زیرآب، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور گجرات میں 577 ملی میٹر بارش کے باعث اربن فلڈنگ نے زندگی مفلوج کر دی۔
پنجاب کے تقریباً 4000 دیہات اور 38 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، کئی بند ٹوٹ گئے جبکہ راوی کا سیلابی ریلا ملتان کے ریلوے برج تک پہنچ گیا۔ شجاع آباد میں بھی بستیاں زیرآب آ گئیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کر رہے ہیں۔ بھارتی ہائی کمیشن نے انڈس واٹر کمیشن کو ایک اور مراسلہ بھیجا ہے جس میں ستلج پر ہریکے اور فیروزپور کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاع دی گئی ہے، جس سے پاکستان میں مزید ریلے آنے کا خدشہ ہے۔
سیلابی صورتحال کے باعث الیکشن کمیشن نے پنجاب میں قومی اسمبلی کے 5 اور صوبائی اسمبلی کے 4 حلقوں میں ضمنی انتخابات موخر کر دیے ہیں۔ لاہور بورڈ نے بھی میٹرک کے ضمنی امتحانات جو 10 ستمبر سے شروع ہونا تھے، ملتوی کر دیے ہیں اور نئی تاریخیں جلد جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں خطرناک صورتحال برقرار ہے۔ ہیڈ سدھنائی، گنڈا سنگھ والا، خانکی، قادر آباد اور چنیوٹ سمیت کئی مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ راوی کے ہیڈ مرالہ، شاہدرہ، بلوکی اور سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ ہوا جبکہ تریموں، جسڑ، اسلام اور میلسی سائفن پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے گڈو، سکھر، کوٹری اور پنجند پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خانیوال کے قریب راوی اور چناب کے پانیوں کے سنگم نے ملتان اور مظفرگڑھ کے اضلاع کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ پر پانی کی سطح 412 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جو خطرناک حد سے صرف 5 فٹ کم ہے، حکام کے مطابق اگلے 12 گھنٹے نہایت نازک ہیں۔
حافظ آباد میں سیلاب نے 140 سے زائد دیہات ڈبو دیے، ہزاروں ایکڑ پر قائم مچھلی فارم تباہ ہو گئے اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ لوگوں کے گھر، جانور اور فصلیں سب دریا برد ہو گئیں۔
قصور میں دریائے ستلج پر ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جس نے 100 سے زائد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جن میں نوری والا، بھیڈیاں اور عثمان والا شامل ہیں۔






تبصرے بند ہیں