اسلامی یکجہتی گیمز (Islamic Solidarity Games) مسلم دنیا کے لیے ایک ایسا اسپورٹس پلیٹ فارم ہیں جہاں نہ صرف کھیلوں کے ذریعے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ممالک اپنی صلاحیتوں اور صلاح کاروں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس ایونٹ کو اسلامی دنیا کا "اولمپکس” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ اس میں درجنوں ممالک اور ہزاروں کھلاڑی مختلف کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ گیمز مسلم دنیا کے نوجوانوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ کھیلوں میں بھی وہ عالمی معیار حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم جب ہم پاکستان کے کردار کو دیکھتے ہیں تو مایوسی کا سامنا ہوتا ہے، کیونکہ گزشتہ تین ایڈیشنز میں پاکستان کی کارکردگی نہایت غیر متاثرکن رہی ہے۔
پاکستان نے 2005 میں مکہ مکرمہ میں ہونے والے پہلے اسلامی یکجہتی گیمز میں شرکت کی۔ اس وقت پوری قوم کو امید تھی کہ پاکستان کھیلوں کے میدان میں اپنی ساکھ دوبارہ بحال کرے گا۔ مگر نتائج اس کے برعکس نکلے۔ پاکستان صرف 4 میڈلز حاصل کر سکا جن میں تین گولڈ اور ایک برونز شامل تھے۔ یہ کارکردگی پاکستان جیسے ملک کے لیے، جس کا ماضی کھیلوں کی دنیا میں خاصہ روشن رہا ہے، انتہائی کمزور سمجھی گئی۔
اس کے بعد 2013 میں پالمبینگ، 2017 میں باکو اور 2021 میں قونیہ میں ہونے والے ایونٹس میں بھی پاکستان خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکا۔ جہاں ترکی، ایران، آذربائیجان اور مصر جیسے ممالک نے درجنوں میڈلز جیت کر اپنی برتری ثابت کی، وہیں پاکستان کی کارکردگی چند کانسی یا چاندی کے تمغوں تک محدود رہی۔ ان تینوں ایونٹس میں پاکستانی کھلاڑی محض نمائندگی کے لیے شریک ہوئے اور میڈل ٹیبل پر پاکستان کا نام ہمیشہ نیچے رہا۔
یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر پاکستان اپنی حقیقی صلاحیت کو کیوں نہیں دکھا پا رہا؟ اس کا سب سے بڑا سبب پاکستان کی اسپورٹس فیڈریشنز کی ناکامی ہے۔ پاکستان میں کھیلوں کے شعبے کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے۔ حکومتی پالیسیوں میں کھیلوں کو کبھی بھی اولین ترجیح نہیں دی گئی۔ صرف کرکٹ کو حد سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے جبکہ ہاکی، جو کبھی ہمارا قومی فخر تھا، اب تنزلی کی انتہا پر ہے۔ اسکواش میں جہاں جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے عالمی چیمپئن پیدا ہوئے، وہاں آج ہم عالمی سطح پر کہیں دکھائی نہیں دیتے۔
فیڈریشنز کے اندر بدانتظامی، میرٹ کا فقدان، کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی اور فنڈز میں شفافیت کی کمی نے کھیلوں کے مستقبل کو تباہ کیا۔ کئی کھیلوں کی فیڈریشنز میں گروپ بندی اور سیاست نے ٹیلنٹ کو آگے آنے سے روکے رکھا۔ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولتیں اور کوچنگ فراہم نہیں کی گئی۔ ایک کھلاڑی جب اپنی مدد آپ کے تحت تیاری کرتا ہے تو وہ عالمی مقابلوں میں میڈل جیتنے کے قابل نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی کارکردگی ہر ایونٹ میں "شرکت” تک محدود رہ گئی۔
اس کے برعکس اگر ہم دیگر مسلم ممالک کو دیکھیں تو ایک بالکل مختلف منظر سامنے آتا ہے۔ ترکی نے گزشتہ ایونٹس میں اپنے کھیلوں کے ڈھانچے کو جدید بنیادوں پر استوار کیا اور ہر شعبے میں سرمایہ کاری کی۔ ایران نے ایتھلیٹکس، ویٹ لفٹنگ اور مارشل آرٹس میں عالمی معیار کے کھلاڑی تیار کیے۔ آذربائیجان نے باکو ایونٹ کو کامیابی سے نہ صرف منعقد کیا بلکہ اپنے کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولت دے کر میڈل ٹیبل میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان ممالک نے کھیلوں کو صرف تفریح نہیں بلکہ ایک "نیشنل پالیسی” کے طور پر اپنایا، جس کے نتائج پوری دنیا نے دیکھے۔
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ ہمارے دیہی علاقوں میں ریسلنگ، کبڈی، ایتھلیٹکس، فٹبال اور مارشل آرٹس میں بے شمار نوجوان اپنی صلاحیت دکھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کی صلاحیتیں اس وقت ضائع ہو جاتی ہیں جب انہیں کوئی پلیٹ فارم یا سہولت نہیں ملتی۔ اگر یہی کھلاڑی جدید کوچنگ، بہترین جم اور غذائی سہولتیں پائیں تو عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہماری اسپورٹس پالیسی کھلاڑیوں کو خواب دکھانے تک محدود ہے۔
اب ریاض 2025 اسلامی یکجہتی گیمز ایک نیا موقع ہے۔ سعودی عرب ان مقابلوں کو اپنی "ویژن 2030” کا حصہ بناتے ہوئے کھیلوں کے شعبے کو عالمی معیار پر لے جا رہا ہے۔ یہاں تقریباً 57 ممالک کے ساڑھے تین ہزار کھلاڑی حصہ لیں گے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی پالیسی کو درست کرے اور دنیا کو دکھائے کہ ہم کھیلوں میں بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں۔
پاکستان کے عوام آج بھی کھیلوں میں کامیابی کے لیے ترستے ہیں۔ کرکٹ سے ہٹ کر اگر کوئی نوجوان کسی اور کھیل میں میڈل جیتتا ہے تو وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ارشد ندیم نے جب جیولن تھرو میں عالمی سطح پر میڈل جیتا تو پورا ملک خوشی سے جھوم اٹھا۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ ضرورت صرف حکومتی سرپرستی اور فیڈریشنز کی سنجیدگی کی ہے۔
اگر پاکستان نے ریاض 2025 کو محض نمائندگی تک محدود رکھا تو یہ ایک اور ضائع شدہ موقع ہوگا۔ لیکن اگر اس بار سنجیدگی دکھائی گئی، کھلاڑیوں کو بہترین تیاری کرائی گئی اور میرٹ کی بنیاد پر ٹیمیں بھیجی گئیں تو یہ ایونٹ پاکستان کے کھیلوں کے لیے ایک نیا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستانی عوام کی یہی دعا اور امید ہے کہ ہمارا سبز ہلالی پرچم ریاض 2025 کے اسلامی یکجہتی گیمز میں بلند ہو اور ہمارے کھلاڑی وطن واپس لوٹیں تو ان کے گلے میں میڈلز ہوں۔ یہ نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ پوری قوم کے لیے فخر کا لمحہ ہوگا۔






تبصرے بند ہیں