ارشد چائے والا قانونی طور پر پاکستانی ثابت، افغان ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے

Arshad Chaiwala is legally proven to be Pakistani

عدالت نے سوشل میڈیا سے مشہور ہونے والے ارشد چائے والا کی شہریت سے متعلق فیصلہ سنادیا۔

انٹرنیٹ پر اپنی خوبصورت آنکھوں اور حسن کی وجہ سے مشہور ہونے والے ارشد چائے والا کی پاکستانی شہریت ثابت ہوگئی ہے اور اُسے افغانی کے بجائے پاکستانی شہری قرار دے دیا گیا ہے۔

‎ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے ارشد خان چائے والے کی پٹیشن منظور کرتے ہوئے انہیں پاکستانی شہری قرار دیا اور فیصلے میں لکھا کہ ارشد چائے والا افغانی نہیں ہے۔

عدالت نے ‎ارشد چائے والے کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کردیا۔ جبکہ ‎‎ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس جواد حسن نے پٹیشن نمٹاتے ہوئے کیس کو ختم کردیا۔

اُدھر ارشد خان کی پٹیشن پر نادرا کا بھی بورڈ اجلاس ہوا جس میں اُسے پاکستانی شہری تسلیم کر لیا گیا ہے۔ نادرا رپورٹ کے مطابق ‎ارشد خان اس کے والد کی پاکستانی شہریت کی دستاویزات درست ثابت ہوگئیں۔

نادرا رپورٹ اور دستایوز کے مطابق ‎ارشد چائے والا کا پہلے نام زر خان ولد باز محمد خان ہے، جو اسلام آباد کے علاقے شاہ اللہ دتہ میں 1999 کو پیدا ہوا اور ابتدائی تعلیم بھی اسی علاقے کے گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی۔

دستاویز کے مطابق ارشد کے والد ‎والد باز خان 1984 کا پاکستانی پاسپورٹ بنا اور وہ 1989 میں سعودی عرب مزدوری کیلئے گئے، ‎ارشد خان 17 سال عمر سے اتوار بازار اسلام آباد چائے اسٹال لگاتا ہے۔

دستاویز کے مطابق ‎ارشد کو 2017 میں نادرا شناختی کارڈ جبکہ 2016 میں پاسپورٹ بنا، پاسپورٹ آفس نے تمام ڈاکومنٹس چیک کر کے آئی ڈی کارڈ، پاسپودٹ بنائے۔

READ  شہزادی ڈیانا کی زندگی پر خفیہ فلم میں میگھن مارکل کا اہم کردار کرنے کا امکان

دستایوز میں کہا گیا ہے کہ ‎ارشد چائے والا کی عالمی شہرت کی وجہ سے سوشل میڈیا سے پاکستان کو بھاری زر مبادلہ حاصل ہوا، وہ کبھی افغانستان گیا اور نہ ہی افغان شناختی کارڈ یا پاسپورٹ اُس کے پاس رہا۔

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ شناختی کارڈ، پاسپورٹ بحال ہونے کے بعد ارشد خان اتوار بازار اسلام آباد میں ایک بار پھر چائے کا کاروبار شروع کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں