کمار سانو کے 30 لاکھ روپے ہرجانے کے مقدمے پر سابقہ اہلیہ کا جواب سامنے آگیا

Kumar Sanu's ex-wife's response to Rs 3 million damages case revealed

بالی ووڈ کے مایہ ناز اور 90 کے دہائی کے معروف پلے بیک سنگر کمار سانو نے سابقہ اہلیہ کے الزامات پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق معروف گلوکار کمار سانو نے اپنی سابقہ اہلیہ ریتا بھٹاچاریہ کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

کمار سانو نے ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں اہلیہ پر 30 لاکھ روپے ہرجانے ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

جس پر ان کی اہلیہ ریتا بھتا چاریہ نے صحافی کے سوال پر کہا کہ عدالت سے بلاوا آنے پر جواب بھی وہیں دوں گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ میری بات میں کتنی سچائی تھی یا کتنا جھوٹ تھا اس کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ کچھ چھپا نہیں، سب کھلی کتاب کی طرح ہے۔

خیال رہے کہ یہ مقدمہ ان بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جو ریتا بھٹاچاریہ نے حالیہ مہینوں میں مختلف انٹرویوز کے دوران دیے، اور جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے۔

عدالتی درخواست کے مطابق ریتا بھٹاچاریہ نے بعض انٹرویوز میں یہ سنگین الزامات عائد کیے کہ حمل کے دوران کمار سانو نے انھیں مناسب خوراک فراہم نہیں کی۔

سابقہ اہلیہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اُس دوران باورچی خانہ بند رکھا گیا۔ دودھ اور طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔

ان کے بقول سابقہ اہلیہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ میں اپنی قانونی لڑائیوں اور مبینہ غیر ازدواجی تعلقات میں مصروف رہ کر خاندان کو نظرانداز کرتا رہا۔ جس میں سچائی نہیں۔

READ  امریکی جج کا بڑا فیصلہ: ٹرمپ کا نیشنل گارڈ کو پورٹ لینڈ بھیجنے کا حکم غیر قانونی قرار

عدالتی دستاویز میں کہا گیا کہ کمار سانو کی سابقہ اہلیہ کے یہ انٹرویوز ستمبر 2025 میں بعض ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور میڈیا چینلز پر نشر ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں