پرورش میں ماؤں کی لاپروائی کی وجہ سے بچوں کی ذہنی صلاحیتیں اور نشوونما شدید متاثر ہورہی ہے اور وہ ابتدائی عمر سے ہی ذہنی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔ بریسٹ فیڈنگ کے بجائے بوتل کے ذریعے بچوں کو دودھ پلانے سے بچے مختلف انفیکشنز کا شکار ہورہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار مختلف ماہرین اطفال نے ہفتے کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ برانچ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی کانفرنس برائے امراض اطفال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس کے مہمان خصوصی معروف اطفال پروفیسر ایم اے عارف تھے جبکہ پروفیسر اقبال میمن، پروفیسر جمال رضا، پی پی اے سندھ کے صدر پروفیسر وسیم جمالوی، سیکریٹری ڈاکٹر سعداللہ چاچڑ، پروفیسر خالد شفیع، پروفیسر محسنہ نور ابراہیم، ڈاکٹر راحت نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس میں بچوں میں بیماریوں کی روک تھام اور بچوں کی شرح اموات کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اپنے تجربات اور سفارشات پیش کی جائیں گی۔ کانفرنس اتوار کو بھی ہوگی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر جمال رضا نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی ذہنی نشوونما میں ماؤں کی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل ماؤں نے اپنے بچوں کو موبائل فون کے حوالے کردیا ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو شدید متاثر کررہی ہے اور بچے ابتدائی عمر میں ہی ذہنی خلفشار کا شکار ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں اور ماؤں کا انٹرایکشن بچے کی نشوونما میں بہت ضروری ہے جس کی جانب مائیں توجہ نہیں دے رہی۔






تبصرے بند ہیں