ایک امریکی ڈیفنس ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو روسی ساختہ Mi-28 Havoc جنگی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے شواہد مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ روسی ساختہ Mi-28NE ہیلی کاپٹر ایرانی دارالحکومت تہران کے اوپر پرواز کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی سامنے آئی تھیں جن میں کم از کم ایک Mi-28NE کو ایران میں موجود دکھایا گیا تھا۔
تاہم ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ یہ ویڈیو کہاں اور کب ریکارڈ کی گئی۔
ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی تصاویر بظاہر تہران کے مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر واقع پارس ائیروسپیس سروسز کمپنی کے ہینگر میں لی گئی تھیں۔
اس کے علاوہ 3 جنوری کو ایرانی صحافی محمد طاہری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فارسی زبان میں ایران کی عسکری قوت کے حوالے سے ایک پوسٹ کی تھی جس کے ساتھ ڈیزرٹ کیموفلاج میں موجود Mi-28 کی ایک تصویر منسلک تھی۔
Mi-28 ہیلی کاپٹر 30 ملی میٹر خودکار مشی گن سے لیس ہوتے ہیں اور چار ہارڈ پوائنٹس پر مختلف ہتھیار لے جا سکتے ہیں جن میں ٹینک شکن میزائل اور راکٹ شامل ہیں۔ اس ہیلی کاپٹر کا بنیادی سینسر سسٹم ماسٹ ریڈار اور ہیلی کاپٹر کے اگلے حصے میں نصب انفرا ریڈ کیمرے پر مشتمل ہوتا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق ایران کے لیے فراہم کیے جانے والے Mi-28 ہیلی کاپٹروں کی درست صلاحیت اور مجموعی تعداد ابھی واضح نہیں ہے، اس حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو کا معیار کم ہونے کی وجہ سے کئی تفصیلات کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔






تبصرے بند ہیں