ہیروشیما ایٹمی دھماکے کے 80 سال بعد ایک نیا مادہ دریافت، سائنسدان حیران

Scientists are surprised to discover a new substance 80 years after the Hiroshima atomic bombing

ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹمی بم کے واقعے کو 80 سال بیت جانے کے بعد سائنسدانوں نے ساحلی ریت سے ایک نیا تخلیق شدہ مادہ دریافت کر لیا ہے، جو اس ہولناک دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔

تحقیقی جریدے ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع ہونے والی رپوٹ کے مطابق 6 اگست 1945ء کے ایٹمی فضائی دھماکے نے سیکنڈوں میں درجہ حرارت 7 ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا دیا تھا، جس سے بننے والے پگھلے ہوئے ملبے کے ٹکڑوں کو "ہیروشیمائٹس” کا نام دیا گیا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے پیدا ہونے والے آتشی گولے میں عمارتوں کا بخارات بن جانے والا مادہ، دھاتیں، مٹی، شیشہ اور پانی شامل تھے، جو تیزی سے ٹھنڈا ہو کر خردبینی قطروں کی شکل میں زمین پر جم گئے تھے۔

تاہم اب سائنسدانوں کو "ہیروشیماائٹ مواد” کی ایک بالکل نئی قسم ملی ہے جو اس سے بھی زیادہ درجہ حرارت میں تشکیل پائی۔ اس خردبینی ذرے کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ اس میں آئرن سے بھرپور مرکبات کے چھوٹے قطرے موجود ہیں، جن میں آئرن، کرومیم، نکل، مینگنیز، مولیبڈینم اور سلکان کی مخصوص مقدار شامل ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کرسٹل عام حالات میں نہیں بن سکتے، اور یہ نتائج اس غیر متوقع طریقے کو ظاہر کرتے ہیں جس کے ذریعے مادہ انتہائی درجہ حرارت پر ردعمل ظاہر کرکے ایک بالکل نئی قسم کے مواد کی تشکیل کرتا ہے۔

READ  دبئی پولیس نے گم ہونیوالا لاکھوں ڈالر کے ہیروں سے بھرا بیگ مالک کو کس طرح واپس دلوایا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں