کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کان حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 34 ہوگئی۔وزیر اعظم نے متاثرہ مزدوروں کے ریسکیو اور ریلیف تک ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق کان میں پھنسے کان کنوں کی تلاش جاری ہے، امدادی ٹیمیں مشترکہ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی مشکل حالات کے باوجود مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے اور امدادی سرگرمیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔صوبائی وزیر نے حادثے میں جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
میر شعیب نوشیروانی کے مطابق حادثے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی، جبکہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔
زیراعظم محمد شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثہ نہایت افسوسناک ہے۔پی ڈی ایم اے اوردیگر متعلقہ ادارے امدادی کاروائیوں کو موثر اورمستعد انداز میں جاری رکھیں۔
تمام زخمیوں کے بروقت ریسکیو اور علاج کے لئے خصوصی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ متاثرہ مزدوروں کے ریسکیو اور ریلیف تک ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ وطن کی تعمیر و ترقی میں محنت کش طبقے کا کردار قابلِ قدر ہے، اور ان کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس المناک سانحے پر متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہوں۔






تبصرے بند ہیں