عدالت نے سینیٹر مشتاق احمد کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا

The court handed over Senator Mushtaq Ahmed to the police on physical remand.

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے آزاد کشمیر سے متعلق احتجاج کے مقدمے میں گرفتار سینیٹر مشتاق احمد اور شریک ملزم دانیال کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج رخشندہ شاہین کے روبرو پولیس نے سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر ملزمان کو پیش کیا۔ دورانِ سماعت پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان سے گاڑی اور اسلحہ برآمد کرنا ہے، اس لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

پراسیکیوشن نے عدالت سے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
واضح رہے کہ سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر ملزمان کے خلاف تھانہ شالیمار اسلام آباد میں آزاد کشمیر سے متعلق احتجاج کے بعد مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں اپنے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی، سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر شرکاء کے خلاف درج مقدمے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آئینی اور جمہوری حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔

جاری بیان میں کہا گیا کہ سیکٹر ایف-10 اسلام آباد میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقد کیے گئے پُرامن احتجاج کے بعد مقدمہ درج کرنا قابلِ مذمت ہے۔ تحریک کے مطابق کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ ایک اخلاقی، انسانی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔

READ  190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران اور بشریٰ بی بی نے فیصلہ چیلنج کردیا، سزا معطلی کی درخواست

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں