‘گونج’ کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے پر مبنی ڈرامہ

'Gonj', a drama based on workplace harassment

’بابا! آپ نے ہمیں بہت سٹرانگ بنایا، قدم قدم پر ہمارا ساتھ، مجھے لگتا تھا کہ باہر کی دنیا میں بھی آپ جیسے لوگ ہیں مگر ایسا نہیں ہے، بہت گندی ہے دنیا۔ لیکن میں آخری دم تک لڑی ہوں لیکن اب میری بس ہو گئی ہے۔ میں یہ بدنامی نہیں سہہ سکتی، یہ کریکٹر لیس ہونے کا داغ نہیں سہہ سکتی۔‘
یہ ہے ڈرامہ ’گونج‘ کا پہلا سین جس میں زریاب (کومل میر) روتے ہوئے اپنے والد کے نام ویڈیو پیغام ریکارڈ کر رہی ہے۔

ڈرامہ ’گونج‘ کی کہانی زریاب محمود (کومل میر) کے گرد گھومتی ہے، جو ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے نمایاں مقام حاصل کرتی ہیں۔ تاہم ان کی کامیابی بعض میل کولیگز کو ناگوار گزرتی ہے۔

ایک سین میں زریاب، کولیگ نبیل (گوہر رشید) کے کمرشل آئیڈیا پر اعتراض کرتی ہیں، جہاں عورت کو آبجیکٹیفائی کیا جا رہا ہوتا ہے۔ زریاب ایک بہتر اور مساوات پر مبنی آئیڈیا دیتی ہیں، جسے سراہا جاتا ہے اور انہیں کمرشل کی ڈائریکشن دے دی جاتی ہے۔ نبیل کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے اور وہ زریاب کو طنز کا نشانہ بنانے لگتا ہے۔

کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے، ناظرین دیکھیں گے کہ زریاب کو کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور وہ اس حد تک کیسے پہنچتی ہیں کہ والد کے لیے ایک جذباتی ویڈیو پیغام ریکارڈ کرتی ہیں۔

یہ ڈرامہ پاکستان میں کام کرنے والی خواتین کی نمائندگی کرتا ہے، جو اکثر کام کی جگہ پر ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔

ایڈووکیٹ مدثر لطیف عباسی کے مطابق خواتین کو چاہیے کہ ہراسانی کی صورت میں واقعہ فوراً تحریری شکل میں ادارے کی متعلقہ اتھارٹی یا باس کو رپورٹ کریں۔ اگر اندرونی کمیٹی ایکشن نہ لے تو وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت، سائبر کرائم یا دیگر متعلقہ اداروں سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

READ  کپل شرما کے کیفے پر حملہ، کامیڈین کس حال میں ہیں؟

شکایت کا طریقہ کار سادہ ہے: واقعے کی تفصیل، ثبوت (ویڈیو، آڈیو یا تصاویر) کے ساتھ جمع کروائی جائے۔ متعلقہ ادارے دونوں فریقین کو بلا کر کیس کی سماعت کرتے ہیں، اور جرم ثابت ہونے پر چھ لاکھ تک جرمانہ، ترقی پر پابندی، گریڈ میں کمی یا ملازمت سے برطرفی جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں